گندم اور پیشگی منصوبہ بندی
حکومت پنجاب نے اپریل کے پہلے ہفتے سے گندم کی نئی فصل کی خریداری شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گندم پالیسی 2026ء میں گندم کی امدادی قیمت 3500روپے فی 40 کلوگرام مقرر ہے لیکن یہ پالیسی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے تحت حکومت براہِ راست کسانوں سے گندم نہیں خریدے گی بلکہ سرکاری سکیم کی بڈ جیتنے والی11 نجی کمپنیاں کسانوں سے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدیں گی‘ جسے بعد ازاں سرکاری گوداموں میں ذخیرہ کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد کسانوں کو بروقت ادائیگی اور مارکیٹ میں استحکام پیدا کرنا ہے۔ گزشتہ دو‘ تین برسوں کے دوران حکومت کی طرف سے گندم کی امدادی قیمت مقرر نہ کرنے اور سرکاری ذخائر کیلئے گندم نہ خریدنے سے کاشتکاروں کا بہت زیادہ استحصال ہوا ہے۔

لہٰذا حکومت کو رواں برس گندم کی خریداری میں طے شدہ طریقہ کار پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے تاکہ گندم کے کاشتکاروں کو طے شدہ نرخوں کی بروقت فراہمی ممکن ہو سکے۔ اس سارے عمل میں مڈل مین اور آڑھتیوں کو شامل کرنے کے بجائے گندم کسانوں سے براہِ راست خریدی جانی چاہیے۔ دوسرا اہم کام گندم کی نئی فصل کی مجموعی پیداوار کا پیشگی تخمینہ لگانا ہے تاکہ ملکی ضروریات سے زائد فصل کی صورت میں برآمدات کے حوالے سے پیشگی منصوبہ بندی کی جا سکے اور کمی کی صورت میں غذائی تحفظ یقینی بنانے کیلئے بروقت درآمد کی جا سکے۔