مستقل امن کی ضرورت
ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو چار ہفتے مکمل ہو گئے ہیں اور اس ایک ماہ نے عالمی سیاست‘ معیشت اور بین الاقوامی قوانین کے تمام سابقہ تصورات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے مزید دس روز تک روکنے کا اعلان ایک ایسی خبر ہے جسے عالمی سطح پر ملے جلے ردِعمل کیساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ اسے ایک محدود جنگ بندی یا تزویراتی وقفہ قرار دیا جا رہا ہے لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا یہ دس دن تباہی کے اس عمل کو مستقل طور پر روکنے میں معاون ثابت ہوں گے یا یہ اگلے بڑے حملے کی تیاری کا ایک وقفہ ہے؟ متحارب فریقوں میں مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کیلئے دوطرفہ حملوں کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے کیونکہ پُرامن ماحول کے بغیر کسی بھی پائیدار حل کی توقع رکھنا عبث ہے۔ ایک ماہ کی جنگ نے تہذیبی ارتقا کے تصور کو جو ٹھیس پہنچائی ہے‘ انسانیت کو جو زخم دیے ہیں‘ ان کا تخمینہ لگانا بھی مشکل ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق محض چار ہفتوں کے دوران 32لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں‘ جو بہت بڑا انسانی المیہ ہے۔

دو ہزار کے قریب ایرانی شہری اپنی جانوں سے گئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی اقتصادی پابندیوں کے باعث بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی ایک چیلنج تھی‘ وہاں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزینوں کا سیلاب ایک بڑے قحط اور طبی بحران کو جنم دے رہا ہے۔ عالمی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگیں صرف محاذوں پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ ان کا سب سے بڑا نشانہ وہ معصوم شہری بنتے ہیں جن کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ معاشی محاذ پر اس جنگ نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور ایک ماہ کے قلیل عرصے میں تیل کی عالمی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ گیس (ایل این جی) کی قیمتیں 140فیصد سے زائد بڑھ چکی ہیں۔ توانائی کے اس بحران نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر کی تخصیص کے بغیر تمام ممالک کی معیشتوں کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔ افراطِ زر کا ایک نیا طوفان دنیا کے دروازے دستک دے رہا ہے جبکہ عالمی سپلائی چین بری طرح متاثر ہونے کا خمیازہ بھی ہر ملک کو اپنی اپنی سطح پر بھگتنا پڑے گا۔ اگر یہ جنگ مزید طوالت اختیار کرتی ہے تو عالمی معیشت کے سنبھلنے کے امکانات مزید معدوم ہو جائیں گے لہٰذا مشرقِ وسطیٰ میں سلگنے والی آگ کو محض ایک علاقائی تنازع سمجھ کر نظر انداز کرنا عالمی سطح پر معاشی خودکشی کے مترادف ہوگا۔
اس سنگین صورتحال میں ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے متعدد ممالک کوشاں ہیں‘ پاکستان بھی شروع دن سے بیک چینل ڈپلومیسی کا سہارا لیتے ہوئے فریقین کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ پاکستان کیلئے یہ مسئلہ دو طرفہ اہمیت کا حامل ہے لہٰذا خطے میں امن واستحکام کیلئے غیر جانبدار ممالک کو اپنی کوششیں مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں نکال سکتا بلکہ افہام و تفہیم اور مذاکرات ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے پائیدار امن ممکن ہے۔ صدر ٹرمپ کا دس روز کیلئے توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کا حالیہ اعلان اگرچہ خوش آئند ہے‘ مگر یہ کوئی نیا حربہ نہیں ہونا چاہیے۔ دس دن کا یہ وقت فریقین کیلئے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اشتعال انگیزی کو ترک کر کے سفارتکاری کے دروازے کھولیں۔
دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ مسئلے کا ایسا حل نکالا جائے جو تمام فریقوں کیلئے قابلِ قبول ہو اور جس میں ہر دو جانب سے سرحدی تحفظ اور خطے کی سلامتی کی یقین دہانی کرائی جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں بیان بازی سے نکل کر عملی اقدامات کریں۔ محدود جنگ بندی کا یہ دورانیہ اس وقت تک بے معنی رہے گا جب تک اسے مستقل امن معاہدے میں تبدیل نہیں کیا جاتا۔