اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی کا تدارک ناگزیر

وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 27مارچ کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر آٹھ فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ حالات میں جب عام آدمی کی آمدن محدود اور منجمد ہے‘ روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نچلے اور متوسط طبقے کیلئے بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ مہنگائی میں اس اضافے کا تعلق کافی حد تک منافع خوری سے ہے۔ دکاندار علاقائی عدم استحکام اور مہنگی توانائی کو جواز بنا کر عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کا آغاز کرے۔ منافع خوری‘ ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری و جعلی اشیا کی فروخت صارف کے حقوق کو پامال کرنے کے مترادف ہے؛ پرائس کنٹرول کے روایتی اور نمائشی اقدامات اس پیچیدہ مسئلے کا حل نہیں۔

ضروری ہے کہ حکومت منافع خوری کے تدارک کیلئے ایک جامع اور پائیدار حکمت عملی اختیار کرے۔ مہنگائی کے ساتھ ساتھ عالمی اور علاقائی صورتحال بھی عام آدمی کیلئے سخت خطرات کا پیغام لا رہی ہے۔ اگر آنے والے خطرات کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو مہنگائی کا جن بے قابو ہو کر سماجی بے چینی اور معاشی بدحالی کو مزید ابتر بنا سکتا ہے۔لہٰذا حکومت کو رسد کے نظام کو مستحکم کرنے‘ منافع خور مافیا کے گٹھ جوڑ کو توڑنے اور پرائس کنٹرول کو حقیقی معنوں میں نافذ کرنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ عوام کو ریلیف میسرآ سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں