آوارہ کتوں کی بھرمار
آوارہ کتوں کی مسلسل بڑھتی تعداد اور لوگوں پر حملوں کے بڑھتے واقعات نے شہریوں کو ایک نئے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ ہفتے کے روز لاہور میں بند روڈ کے علاقے میں ایک بزرگ خاتون کو آوارہ کتوں نے بھنبھوڑ ڈالا۔ ایک ہفتہ قبل انڈسٹریل ایریا میں ایک آٹھ سالہ بچی کتوں کے حملے میں جاں بحق ہو گئی تھی۔ آئے روز پیش آنے والے یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ شہر کی سڑکیں اب شہریوں‘ بالخصوص خواتین اور بچوں کیلئے محفوظ نہیں رہیں۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس پنجاب میں تین لاکھ 34 ہزار سے زائد کتے کے کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے‘ یعنی اوسطاً ہر روز صوبے میں 915 سے زائد افراد ان حملوں کا شکار ہو رہے۔ رواں سال کے ابتدائی تین ماہ میں یہ تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر چکی۔

غالباً یہی وجہ ہے کہ ریبیز سے ہونے والی اموات کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے‘ جہاں سالانہ ایک ہزار سے پانچ ہزار افراد اس موذی مرض کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہ واقعات کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ضلعی انتظامیہ اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی مجرمانہ غفلت اور ناکام پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں جنہوں نے عوام کو شہروں میں دندناتے درندوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت اس معاملے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرے اور شہریوں کو اس روزمرہ کے خوف سے نجات دلائے۔