خیر سگالی اقدام
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت موجودہ حالات میں ایک اہم خیر سگالی اقدام ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف دونوں ملکوں کے مابین بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے بلکہ اس کے دوررس سفارتی اور معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے جس کا بیشتر حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ 20 جہازوں کی محفوظ آمد ورفت سے نہ صرف ملک میں ایندھن کی سپلائی لائن مستحکم رہے گی اور توانائی بحران کی شدت میں کمی آئے گی بلکہ ایران کا یہ اقدام پاکستان کے ساتھ اس کے خصوصی تعلق اور علاقائی استحکام کیلئے اس کے عزم کا بھی اظہار ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ تہران اور اسلام آباد میں سفارتی چینلز انتہائی فعال ہیں اور دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے مفادات کے تحفظ کا گہرا احساس پایا جاتا ہے۔

نیز یہ کہ ایران کو پاکستان کی مفاہمانہ کوششوں پر بھرپور اعتماد ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان نے سفارتی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جب سپلائی چین محفوظ ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر صنعتی پہیے کی روانی اور عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ یہ عمل خطے کے دیگر ممالک کیلئے بھی ایک پیغام ہے کہ باہمی تنازعات کو مذاکرات اور عملی تعاون کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔