امن، استحکام اور سفارتکاری
ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کو خطرناک صورتحال میں پھنسا دیاہے۔ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری اس جنگ میں بے بہا جانی نقصان کے علاوہ عالمی معیشت‘ توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی امن کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس نازک صورتحال میں گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان‘ سعودی عرب‘ ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ایک اہم سفارتی پیشرفت ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ یمن کے حوثیوں کی اس کشیدگی میں شمولیت کے بعد اس کا دائرہ مزید پھیلتادکھائی دے رہا ہے۔اس طرح خدشہ ہے کہ یہ تنازع ایک مکمل علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے توانائی کی عالمی ترسیل پہلے ہی شدید متاثر ہے‘ جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔اگر یہ تنازع بحیرہ احمر تک پھیل گیا تو اس کے اثرات مزید تشویشناک ہوں گے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے چار ملکی وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانا اور ایرانی حکومتی قیادت کے ساتھ مسلسل روابط بروقت اور دانشمندانہ اقدام ہے۔ وزرائے خارجہ کے اس اجلاس کا بنیادی مقصد کشیدگی میں کمی لانا اور امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

وزرائے خارجہ کے اس اجلاس کو اس سلسلے کی اولین کوشش قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ امید کی جاتی ہے کہ یہ عمل آگے بڑھے گا اور معاملات بہتری کی طرف جائیں گے۔ تاہم اس کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت ہے‘ جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگی کارروائیاں بدستور جاری ہیں بلکہ صدر ٹرمپ ایران کی جانب مزید طیارہ بردار جہاز بھیج رہے ہیں اور ایران کے اندر فوج اتارنے کی باتیں کی جا رہی ہیں‘ جس سے سفارتی کوششوں کیلئے مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ ایران واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی زمینی کارروائی کا سخت جواب دے گا‘ اس طرح کشیدگی میں مزید اضافے کا اندیشہ خارج از امکان نہیں۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ جب تک براہِ راست فریقین مذاکرات کی میز پر نہیں آتے اس نوعیت کی سفارتی کوششیں محدود اثر ہی رکھتی ہیں۔ مگر فریقین کو یہاں تک لانے کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے‘ جو امریکہ اور ایران کے معاملے میں مزید ضروری ہے کیونکہ ماضی میں امریکہ کی جانب سے دو بار مذاکرات کے درمیان ایران پر حملہ کر دینے کی مثالیں دونوں ملکوں میں سفارتی عدم اعتماد کو انتہائی سطح پر پہنچانے کا سبب ہیں۔
اسلام آباد میں وزرائے خارجہ اجلاس سے یہ تاثر لیا جا سکتا ہے کہ یہ ممالک مشترکہ مؤقف کے ذریعے متحارب فریقین پر زور دے سکتے ہیں۔ اور اسے ایک علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ مسلم دنیا اب محض تماشائی بننے کے بجائے عملی اقدامات کی طرف بڑھ رہی ہے۔بہرکیف پاکستان کیلئے یہ موقع ایک سفارتی امتحان ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ کرے گا بلکہ خطے میں اس کے کردار کو بھی مستحکم کرے گا۔ آبنائے ہرمز سے پاکستانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت جیسے اقدامات اس بات کا اشارہ ہیں کہ محدود سطح پر ہی سہی مگر پیشرفت ہو رہی ہے۔ تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ اس سفارتی عمل کو محض بیانات اور اجلاسوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ فریقین جنگ بندی پر سنجیدگی سے غور کریں‘ اعتماد سازی کے اقدامات کریں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں۔ اسلام آباد میں ہونے والا یہ اجلاس ایک مثبت آغاز ضرور ہے مگر یہ منزل نہیں بلکہ ایک طویل اور کٹھن سفارتی سفر کا پہلا قدم ہے۔