اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

انتظامی نااہلی!

گزشتہ روز کراچی سمیت ملک کے جنوبی اضلاع میں ہونیوالی بارش نے ایک بار پھر انتظامی کمزوریوں اور دیرینہ شہری مسائل کو بے نقاب کر دیا۔ درمیانے درجے کی بارش کے نتیجے میں محض کراچی میں مختلف حادثات میں چھ افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ شہرِ قائد کی تقریباً تمام بڑی شاہراہیں‘ انڈر پاسز اور نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے اور شہری انتظامیہ کو ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی۔ کراچی میں اربن فلڈنگ اب کوئی غیر متوقع یا اچانک پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک دہائیوں پرانا مسئلہ ہے۔ اس کے باوجود نہ تو پالیسی سطح پر کوئی بنیادی تبدیلی سامنے آئی اور نہ ہی عملی اقدامات میں کوئی پائیدار بہتری دکھائی دی۔ شہرِ قائد میں نکاسی آب کا کوئی مؤثر‘ مربوط اور جدید نظام موجود نہیں۔

نالوں کی صفائی‘ غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ اور پانی کے قدرتی بہاؤ کی بحالی جیسے بنیادی اقدامات مسلسل نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں‘ نتیجتاً معمولی بارش بھی شہر کے انفراسٹرکچر کی کمزوری کو عیاں کر دیتی ہے۔ صوبائی حکومت‘ شہری انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو محض وقتی اقدامات سے نہیں بلکہ مستقل اور جامع منصوبہ بندی کے ذریعے حل کریں۔ جب تک انتظامی نااہلی‘ بدانتظامی اور ترجیحات کے فقدان کو ختم نہیں کیا جاتا‘ کراچی کے مکینوں کو ہر بارش کے بعد اسی بحران کا سامنا رہے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں