جنگ کے معاشی اثرات اور عام آدمی کا تحفظ
خطے میں جنگی صورتحال کے تناظر میں سیاسی و عسکری قیادت کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی‘ وفاق اور صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں تاکہ عام آدمی کا تحفظ کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے کفایت شعاری‘ زرعی شعبے اور پبلک وگڈز ٹرانسپورٹ کے تحفظ اور عام آدمی پر مہنگائی کا کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی‘ اتحاد واتفاق اور سیاسی استحکام کے بغیر کوئی بھی قوم اتنے بڑے چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور توانائی کے بحران نے پوری دنیا کو شدید متاثر کیا ہے‘ سپلائی چین میں خلل کے مسائل اس سے سوا ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ریاست کیلئے یہ ممکن نہیں رہا کہ یہ وہ اس بحران کا اپنے تئیں مقابلہ کر سکے‘ لہٰذا اہم داخلی فیصلوں کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ مگر خدشہ ہے کہ ان فیصلوں کا زیادہ بوجھ انہی طبقات پر آئے گا جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کی وفاق اور صوبوں کو اپنے وہ تمام ترقیاتی منصوبے فوری طور پر روک دینے کی ہدایت‘ جو کم اہمیت کے حامل ہیں‘ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ریاست کو عام آدمی کی مشکلات کا احساس ہے اور وہ اس بوجھ کے کم سے کم اثرات نچلے طبقے پر منتقل کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کو یہ پیشِ نظر رکھنا ہو گا کہ عالمی افق پر منڈلاتے جنگ کے بادلوں نے پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس سے عام آدمی کی قوتِ خرید میں مزید کمی آئی ہے۔ لہٰذا عالمی سطح پر ہونے والی اتھل پتھل کے اثرات کی نچلی سطح تک منتقلی میں ہر ممکن حد تک کوشش کی جانی چاہیے اور ایسا دفاعی حصار قائم ہو سکے جس میں عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں دنیا کے ہر فرد کیلئے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں معاشی مسئلے سے بڑھ کر اب ایک ایسے سماجی بحران میں ڈھل چکی ہیں جو مہنگائی کے ایک خوفناک سیلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر نہ صرف ہمہ گیر ہوتا ہے بلکہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں اضافے کے باعث روزمرہ استعمال کی ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں ہونے والا ایک روپے کا اضافہ بھی مارکیٹ میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے جس کا سب سے زیادہ بوجھ وہ دہاڑی دار مزدور اٹھاتا ہے جس کی آمدن جمود کا شکار ہے مگر اخراجات بے قابو ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب حکومت‘ جو اَب تک پٹرولیم قیمتوں کو برقرار رکھنے کیلئے اربوں روپے صرف کر چکی ہے‘ اب اپنی معاشی سکت کھو رہی ہے۔ لہٰذا صاف ظاہر ہے کہ ریاست کے محدود وسائل کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے دباؤ کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور جلد یا بدیر یہ اثرات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہی پڑیں گے۔
تاہم اس مشکل وقت میں حکومت کی دانشمندی اور بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایک ایسی جامع حکمتِ عملی وضع کرے جو قومی معیشت کو بھی سہارا دے اور غریب طبقے کو بھی کچلنے سے بچائے۔ اس بحران کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت کو ٹارگٹڈ سبسڈی کی ایسی ہمہ جہت پالیسی اپنانا چاہیے جو براہِ راست مستحق افراد تک پہنچے تاکہ کمزور طبقات کو اشیائے ضروریہ میں بھی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسا مستقل اور مؤثر نظام وضع کیا جائے جس کے ذریعے نچلے طبقے کو پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی اور اشیائے ضروریہ کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ حکومت کا اخلاقی فریضہ بھی ہے کہ ریاست جب کوئی مشکل فیصلہ کرے تو اس کا بوجھ ان طبقات پر نہ ڈالا جائے جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے سسک رہے ہیں۔