اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

منافع خوری

حکومت کے دعوؤں کے باوجود ملک میں اشیائے ضروریہ پر ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور یہ رجحان ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ منظم اور طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔ ایل پی جی کی مثال اس صورتحال کی تازہ اور واضح ترین جھلک پیش کرتی ہے۔ ایل پی جی کی سرکاری قیمت 304 روپے فی کلو مقرر ہے لیکن یہ مختلف شہروں میں 420 سے 450 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے‘ جو ریاستی رِٹ اور ریگولیٹری نظام پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈال رہا ہے‘ ایسے میں اگر ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت کا عنصر بھی اس میں شامل ہو جائے تو یہ بحران مزید سنگین ہو جاتا ہے۔

مارکیٹ میں ایل پی جی دستیاب ہونے کے باوجود مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتوں کو غیر معمولی سطح تک بڑھایا جایا جا رہا ہے جس کا براہِ راست نقصان عام صارف کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ رویہ محض کاروباری بے ضابطگی نہیں بلکہ عوامی استحصال کے مترادف ہے۔ حکومت‘ اوگرا اور شہری انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد کرائیں بلکہ مصنوعی قلت پیدا کرنے‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی بھی کریں۔ جب تک احتساب اور سزا کا واضح اور سخت نظام موجود نہیں ہوگا‘ اس وقت تک مہنگائی اور منافع خوری کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں