ایل پی جی کی مہنگائی
حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے دعوؤں کے برعکس ناجائز منافع خوری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ خصوصاً ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کی معاشی مشکلات میں بے تحاشا اضافہ کر رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق لاہور میں ایل پی جی 500 سے 510 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے جبکہ اس کی سرکاری قیمت 304 روپے فی کلو مقرر ہے۔ دیگر شہروں میں بھی عوام کو اسی نوعیت کے استحصال کا سامنا ہے۔ اس منافع خوری پر شہری دکانداروں کو جبکہ دکاندار ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ اس باہمی الزام تراشی کے نتیجے میں اصل مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے اور عام آدمی ہی اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔

ناجائز منافع خوری ملک کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے مگر افسوس کہ آج تک اس کے سدباب کیلئے کوئی جامع اور مربوط حکمت عملی وضع نہیں کی جا سکی۔ ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر ناجائز منافع خور عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرے‘ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور دکانداروں کے مابین قیمتوں کے تعین کے نظام کو شفاف بنائے اور سخت نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ سپلائی میں مصنوعی رکاوٹوں کا خاتمہ بھی یقینی بنایا جائے تاکہ منافع خوروں کیلئے کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔