اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

روس کو آلو کی برآمد

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق روس نے پاکستانی آلو کی درآمد پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے آٹھ  اپریل سے اس فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں تین کمپنیوں کو برآمد کی اجازت دی گئی ہے اور اگر یہ کمپنیاں روسی فائٹو سینیٹری تقاضوں پر پورا اتر کر تسلسل کے ساتھ برآمدات جاری رکھتی ہیں تو مستقبل میں مزید برآمد کنندگان کیلئے بھی دروازے کھلنے کا امکان ہے۔ یہ آلو کے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کیلئے نہایت اہم پیشرفت ہے کیونکہ رواں سیزن ملک میں آلو کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے‘ جس کا تخمینہ تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ٹن لگایا گیا ہے۔ یہ پیداوار ملکی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے‘ لیکن بروقت برآمدی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے آلو کے کاشتکاروں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

ایسے میں روسی منڈی تک رسائی نہ صرف اضافی پیداوار کے دباؤ کو کم کرے گی بلکہ مقامی منڈی میں قیمتوں کے استحکام‘ کسانوں کی آمدنی کے تحفظ اور زرِ مبادلہ کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ اگر زرعی شعبے کو عالمی منڈیوں سے مؤثر انداز میں جوڑا جائے تو یہ نہ صرف دیہی معیشت کو مستحکم کر سکتا ہے بلکہ مجموعی قومی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ روسی منڈی کا دوبارہ کھلنا اسی سمت میں ایک مثبت قدم ہے‘ مگر اصل امتحان اس تسلسل اور وسعت کا ہے جو آئندہ پالیسی فیصلوں میں نظر آنی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں