اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

اسلام آباد امن مذاکرات

امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز تک لا نا پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کی معراج ہے ۔گزشتہ روز دونوں ملکوں سے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد پہنچے اور دن بھر وفاقی دارالحکومت امن مذاکرات کے حوالے سے عالمی خبروں کا محور بنا رہا۔ بند دروازوں کے پیچھے شروع ہونیوالے اس اہم ترین مذاکراتی عمل کی تفصیلات تادم تحریر منظر عام پر نہیں آئیں مگر غیر ملکی ذرائع ابلاغ طرفین میں روبرو مذاکرات کی خبریں دے رہے ہیں۔ اگر واقعتاً ایسا ہے تو یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے کہ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ پہلی براہِ راست اور آمنے سامنے بات چیت ہے۔ ان مذاکرات میں مصروف وفود پر بھاری ذمہ داریاں ہیں۔ صرف ان کے اپنے ملکوں اور عوام کی جانب سے نہیں دنیا کی جانب سے بھی ‘ کیونکہ ایران امریکہ کشیدگی کا خاتمہ عالمی امن اور معاشی استحکام کیلئے بھی ناگزیر ہے۔حالیہ تقریباً چھ ہفتوں کی جنگ نے توانائی کی قیمتوں پر جو اثرات مرتب کیے ہیں اس سے عالمی سطح پر اس سوچ کو تقویت ملی ہے کہ جنگ انسانوں کے مستقبل کیلئے بے پایاں خطرہ ہے۔ یہ احساس مغرب اور مشرق میں یکساں موجود تھا ؛چنانچہ یورپی ممالک نے شروع دن سے اس سے اپنا دامن بچائے رکھا۔

امریکہ کے دیگر اتحادیوں میں سے بھی کوئی ایسا برآمد نہیں ہوا جسے اس جنگ کی آگ کو پھیلانے میں دلچسپی ہو۔ دوسری جانب پاکستان کی مخلص سفارتی کوششیں اس جنگ کے خاتمے کیلئے متحرک ہو گئیں اور چین‘ سعودی عرب‘ ترکیہ جیسے برادر ممالک کا تعاون اور حمایت شامل ہونے سے امن کی ان کوششوں کی کامیابی کے امکانات مزید روشن ہو گئے۔بطور ثالث پاکستان اس سلسلے میں جو کچھ کر سکتا تھا وہ کیا جا چکا ہے۔ متحارب فریقین کو تباہ کن جنگ بند کر کے مذاکرات کی میز پر لے آنے کے بعد اب امریکہ اور ایران کو اپنے اور دنیا بھر کے امن کیلئے سوچنا ہو گا۔ یہی ہر دو ممالک کے عوام بھی چاہتے ہیں۔ امریکہ سپر پاور سہی مگر جنگیں اس کی معیشت پر بھی بھاری پڑتی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ عوام کیلئے ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے امریکی عوام کو دو سال کی بلند ترین مہنگائی کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کے سیاسی اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا؛خاص طور پر اس لیے بھی کہ اسی سال نومبر میں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات بھی ہیں۔

الغرض کسی لحاظ سے بھی ایران امریکہ جنگ کا جواز نہیں بنتا ‘لہٰذا اس بکھیڑے کو جتنا جلد ہو سکے سمیٹنے میں بھلائی ہے۔ اس جنگ کو ختم کر کے دونوں ملکوں کو نئی شروعات کرنی چاہیے ‘ اور یہ ناممکنات میں سے نہیں۔اسلام آباد مذاکرات نے اس پیش رفت کیلئے زمین ہموار کر دی ہے اب یہ دونوں ملکوں کی قیادت پر ہے کہ وہ اس سے کتنا فائدہ اٹھاتی ہے۔اصولی طور پر دونوں ملکوں کو تلخ ماضی سے نکلنے میں کسی ناقابلِ عبور رکاوٹ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ جوہری ہتھیار امریکہ کی ریڈ لائن ہیں مگر ایران شروع دن سے اسی مؤقف پر قائم ہے کہ یہ اس کا مطمح نظر نہیں۔ اقوام متحدہ کا جوہری ادارہ بھی اس حوالے سے ایرانی مؤقف کی تائید کرتا ہے ۔حال ہی میں آئی اے ای اے کے سربراہ نے اس بات کو دہرایا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ہر چند کہ بہت بڑا ہے لیکن اس وقت اس کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی پروگرام نہیں۔دیگر متنازع امور پر بھی بات چیت ہو تو یقینا کوئی نہ کوئی حل نکل ہی سکتا ہے‘ مگر اس کیلئے ضروری یہ ہے کہ امن ترجیحِ اول ہو۔فی الوقت اس سلسلے میں سب سے بڑی اور بنیادی رکاوٹ اور امن کی کوششوں کیلئے سب سے بڑا خطرہ اسرائیل ہے ‘ جو امریکہ کی ہر اس کوشش کو سبوتاژ کرتا ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کا کوئی امکان پیدا ہوتا ہو۔

پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں ہونیوالی حالیہ جنگ بندی اور امنکوششوں کو بھی یہی خطرہ لاحق ہے ۔جنگ بندی کی شرائط میں واضح طور پر لبنان کے شامل ہونے کے باوجود جنگ بندی کا اعلان ہو جانے کے بعد اسرائیل کے بیروت پر وحشیانہ حملوں کی اور کیا وجہ ہو سکتی ہے سوائے اسکے کہ ایران اسرائیلی دہشت گردی کو جواز بنا کر جنگ بندی ختم کرے اور یوں امریکہ اس جنگ میں اٹکا رہے ۔امریکہ اور ایران پر اپنے عوام کی جانب سے یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ دونوں اپنی اپنی پوزیشن کا از سر نو جائزہ لیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ ہر دو ملکوں کی دشمنی صرف اسرائیل کے مقاصد کو پورا کرنے کیلئے تو نہیں؟ اسلام آباد مذاکرات جیسے مراحل روز روز نہیں آتے ایسے نایاب مواقع کا بھر پور فائدہ اٹھانا ہی لیڈر شپ کی کامیابی کی دلیل ہے۔ اسلام آباد مذاکرات سے فائدہ اٹھا کر ایران اور امریکہ پائیدار امن قائم کر سکتے ہیں اور نصف صدی سے جاری اس تلخی کے دور کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایرانی مذاکرات کار وں کی بھی ذمہ داری ہے ‘ مگر صحیح معنوں میں اس وقت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی صلاحیتوں کا امتحان ہے۔یہ ان کی سیاسی زندگی کی شاید سب سے بڑی اسائنمنٹ ہے‘ جس کی کامیابی اُنکے سیاسی مستقبل کیلئے یادگار بن سکتی ہے۔

ان کیساتھ امریکی نمائندہ برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وِٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ہیں ‘ مگر یہ شخصیات گزشتہ برس سے مذاکرات کررہی ہیں اور انہی مذاکرات میں ایران پر دو بار جنگ مسلط کی گئی۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے آنے کا کچھ تو فرق پڑنا چاہیے۔ یہی بات ایرانی وفد کیلئے بھی کہی جاسکتی ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں اس سال اور گزشتہ سال مذاکرات ہو چکے ‘ تمام تر نیک تمناؤں کیساتھ دیکھنا یہ ہے کہ محمد باقر قالیباف اور جے ڈی وینس کی موجودگی کیا رنگ لاتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں