اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرولیم قیمتیں اور عوامی ریلیف

حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے کی کمی ایک ایسا فیصلہ ہے جو مہنگائی کے حبس میں خوشگوار جھونکے کی مانند ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ اس کمی کے ثمرات کی نچلی سطح تک منتقلی کیلئے بھی فعال کردار ادا کیا جائے۔ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی سا بھی اضافہ ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹرز اور تاجر طبقہ پلک جھپکتے ہی کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر لیتا ہے مگر جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس ریلیف کے اثرات پہنچنے عوام تک پہنچانے میں حیلے بہانے کیے جاتے ہیں۔ اب جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی ہو چکی ہے تو ان ثمرات کا بلاتاخیر عام آدمی کی جیب تک پہنچنا ناگزیر ہے۔

ڈیزل کا براہِ راست تعلق مال برداری اور پبلک ٹرانسپورٹ سے ہے‘ اس لیے حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ کرایوں میں 25 فیصد کمی کا جو اعلان کیا گیا ہے‘ اس کا اثر صرف سفر تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے کمی آنی چاہیے۔ اس ضمن میں محض اعلانات کر دینا کافی نہیں بلکہ انتظامی ذمہ داریوں کو بھی بھرپور انداز میں نبھانا ہو گا۔ اگر حکومت ٹرانسپورٹ کرایوں اور ناجائز منافع خوروں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف مہنگائی کی شرح میں کمی آئے گی بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں