مثبت اور تعمیری بات چیت
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ جامع اور تعمیری مذاکرات ہوئے‘ امید کرتے ہیں دونوں ملک خطے اور دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کیلئے مثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز‘ جوہری معاملات‘ جنگی نقصانات کے ازالے‘ پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے پر بات چیت ہوئی۔ مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا تاہم دو‘ تین معاملات پر اختلافِ رائے کے باعث جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات اچھے رہے‘ بیشتر نکات پر اتفاق ہو گیا لیکن جو واحد نکتہ سب سے اہم تھا‘ یعنی جوہری معاملہ‘ اس پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ مذاکرات کرنے والے امریکی وفد کے سربراہ‘ نائب صدر جے ڈی وینس‘ پاکستانی حکام‘ ایرانی حکام اور خود صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مذاکرات میں اگرچہ سمجھوتا یا معاہدہ طے نہیں پا سکا تاہم فریقین نے مجموعی طور پر جو کچھ حاصل کیا ہے یا ان مذاکرات کے نتیجے میں جن امور میں پیشرفت ہوئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کے اس دور کیلئے ناکامی یا تعطل کے الفاظ برمحل نہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے الفاظ زیادہ حقیقت پسندانہ معلوم ہوتے ہیں کہ کسی کو بھی اتنی جلدی معاہدے کی توقع نہیں تھی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نصف صدی کی دشمنی اور تازہ ترین جنگ کے بعد ایک ہی نشست میں معاہدے کو حتمی شکل مل جانا ممکن نہیں تھا۔ تاہم پاکستان کی نیک نیتی پر مبنی کوششوں اور ثالثی کے ساتھ جس عمل کا آغاز ہوا ہے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ناقابلِ عبور رکاوٹ کوئی نہیں۔ جیسا کہ طرفین کی جانب سے کہا گیا کہ بہت سے معاملات میں پیشرفت ہوئی‘ البتہ دو ایک امور میں اتفاق نہیں ہو سکا‘ ان میں سب سے بڑا مسئلہ جوہری ہتھیار وں کی تیاری کا ہے۔ یہ امریکہ کیلئے ریڈ لائن ہے اور اس ضمن میں انہیں ٹھوس یقین دہانی چاہیے۔ اس معاملے میں ایران کی پوزیشن اصولی طور پر واضح اور ٹھوس ہے کہ جوہری توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کا مقصد جوہری ہتھیار کا حصول نہیں۔ آئی اے ای اے اور امریکی انٹیلی جنس ادارے بھی ایسے کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں لا سکے جو ایران کے اس مؤقف کی تردید کرتے ہوں۔ اس لیے قوی امکان ہے کہ جوہری صلاحیت کی رکاوٹ کا بھی کوئی حل نکل سکتا ہے۔
آخر 2015ء میں بھی تو جوہری معاہدہ ہو گیا تھا‘ جس کے تحت ایران نے یورینیم کی افزدگی کو 3.67 فیصد تک محدود کرنے‘ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو 97 فیصد تک کم کر کے 300 کلوگرام کرنے پر اتفاق کیا تھا اور اس کی تعمیل بھی کی۔ مارچ 2018ء میں آئی اے ای اے کے سربراہ نے ادارے کے بورڈ کو بتایا تھا کہ آج کی تاریخ تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اپنے جوہری وعدوں پر عمل پیرا ہے۔ اُسی سال مئی میں صدر ٹرمپ نے امریکہ کو ایران کے ساتھ جامع جوہری معاہدے سے الگ کر لیا۔ فریقین میں آج بھی اسی نوعیت کا جامع جوہری معاہدہ ہو سکتا ہے لیکن باہمی عدم اعتماد کی فضا ایسا ماحول بننے میں مشکلات پیدا کر رہی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے اعتماد کی بحالی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
آبنائے ہرمز پر بھی ایران اور امریکہ کی پوزیشنز میں فرق ہے مگر اس وقت جب دونوں ملک امن کی جانب بڑی پیشرفت کر چکے ہیں‘ جو چند روز پہلے تک خواب وخیال نظر آتا تھا اور بالمشافہ مذاکرات جو 1979ء سے دونوں ممالک میں نہیں ہوئے‘ دونوں ملکوں کا مل بیٹھنا اور جیسا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے تینوں نمائندوں نے ایرانی وفد کے ساتھ دوستانہ اور احترام پر مبنی ماحول میں ملاقات کی‘ اس پیشرفت نے ایران امریکہ جامع بات چیت اور امن معاہدے کی زمین ہموار کر دی ہے۔