پولیو ٹیم پر حملہ
گزشتہ روز ہنگو میں انسدادِ پولیو ٹیم پر حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور چار زخمی ہو گئے۔ حکومت نے گزشتہ روز ہی اس عزم کے ساتھ ملک گیر پولیو مہم کا آغاز کیا ہے کہ ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر ساڑھے چار کروڑ بچوں کو ہر حال میں پولیو ویکسین فراہم کی جائے گی مگر ہنگو میں پولیو ٹیم پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گمراہ اور شدت پسند عناصر ملک سے پولیو کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ انہی عناصر کی وجہ سے ہی پاکستان آج بھی پولیو زدہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ رواں برس فروری میں ہونے والی ملک گیر پولیو مہم کے دوران بھی شمالی وزیرستان اور چمن میں پولیو ٹیموں کی سکیورٹی پر معمور دو اہلکاروں کو قتل کیا گیا تھا جبکہ لاہور‘ بھکر اور کراچی میں پولیو ٹیموں کو ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔

لیکن اب یہ سلسلہ روکنے کیلئے حکومت کو سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ معصوم بچوں میں پولیو قطروں کی صورت میں زندگی بانٹنے والوں کی جان اتنی ارزاں نہیں۔ دوسری طرف پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکار مشکلات کے باوجود پوری جانفشانی سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ اگر پھر بھی کوئی بچہ پولیو کے قطروں سے محروم رہ جاتا ہے تو اس کے ساری ذمہ داری والدین پر عائد ہو گی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ کسی کے بھی بہکاوے میں آ کر اپنے بچوں کو پولیو کے قطروں سے محروم نہ رکھیں۔