اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ناکہ بندی کے مضمرات

اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی تھی تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ روز آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے فیصلے سے امن کوششوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس امریکی اقدام کے مضمرات نہ صرف کشیدگی کے پھیلاؤ کا سبب بنیں گے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات یقینی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے پہلے ہی توانائی کی قیمتوں پر گہرے اثرات ہیں‘ امریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں توانائی کی ترسیل پر مزید منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے‘ نتیجتاً تیل اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے خدشات ہیں۔ حالیہ دنوں امریکہ ایران جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی نظر آنا شروع ہوئی تھی اور دنیا نے سکھ کا سانس لیا تاہم امریکہ کا یہ اقدام خلیج کے پانیوں میں کشیدگی بڑھانے اور توانائی میں نئے اضافے کا نسخہ ہے۔ اس اقدام کے اثرات اور نتائج کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے یورپی اتحادیوں میں سے کسی نے بھی اس اقدام کی حمایت نہیں کی۔ برطانیہ اور آسڑیلیا کے وزرائے اعظم نے تو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اس اقدام کا حصہ نہیں‘ آسڑیلیوی وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ امریک کا یکطرفہ فیصلہ ہے۔

چین‘ روس اور ترکیہ کی جانب سے بھی ناکہ بندی کے فیصلے کی مخالفت کی گئی ہے۔ اس صورتحال میں بڑی حد تک واضح ہو جاتا ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے اور امریکہ کے روایتی‘ فطری اور اور دیرینہ اتحادی بھی امریکہ کے اکثر اقدامات کی ذمہ داری لینے سے انکاری کیوں ہیں۔ امریکہ کا یہ اقدام خلیجی خطے میں جنگ بندی کی کوششوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی میں کتنی اہم ہے یہ اب کہنے کی بات نہیں ر ہ گئی۔ دنیا پچھلے چھ ہفتوں سے اس صورتحال کو بھگت رہی ہے۔ تیل کی عالمی قیمتیں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 56 فیصد بڑھ چکی ہیں مگر آبنائے ہرمز کے حوالے سے نئے امریکی اقدامات عالمی انرجی سکیورٹی کیلئے سنجیدہ خطرات پیدا کرتے ہیں۔ یہ کشیدگی اگر زور پکڑ گئی اور اس کے اثرات بحیرۂ احمر پر بھی ہوئے تو یہ عالمی توانائی کیلئے تباہ کن صورتحال ہو سکتی ہے۔ جنگ بندی سے توانائی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان سامنے آیا تو لوگوں نے سکھ کا سانس لیا مگر ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال صرف دنیا کیلئے نہیں خود امریکہ کیلئے بھی بڑا خطرہ ہے۔ توانائی کی قیمتیں پہلے ہی یورپ اور امریکہ میں بڑھتی جا رہی ہیں‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک کو روکنے کے اقدام سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ امریکہ میں بھی افراطِ زر کے نئے طوفان ساتھ لائے گا۔

یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس موقع پر جب اسلام آباد مذاکرات کو دو دن بھی نہیں ہوئے صدر ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کے معاملے میں اس حیران کن اور خوفناک اقدام کی کیا ضرورت پیش آ ئی اور اس سے کیا مقاصد پورے ہو سکتے ہیں۔ بادی النظر میں قیام امن اور ملکوں میں اعتماد کا کوئی مقصد اس سے پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اس امریکی اقدام سے وابستہ خطرات کو دیکھا جائے تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ان سے اجتناب کیا جائے۔ آبنائے ہرمز کی عالمی ضرورت و اہمیت ظاہر و باہر ہے اور اس کی حساس پوزیشن بھی۔ یہ کوئی ایسا مقام نہیں کہ یہاں طاقت کو آزمایا جائے اور اسکے نتائج کو نظر انداز کیا جائے۔ سفارتکاری آبنائے ہرمز کو کھلوانے کا واحد قابلِ عمل اور منطقی راستہ ہے‘ دوسری صورت میں عالمی معیشت اور علاقائی امن کیلئے بے پناہ خطرات ہیں۔امریکہ کو خلیج فارس میں تحمل سے کام لینا ہو گا‘ کوئی ایک قدم امن کوششوں کے خاتمے کی دلیل بن سکتا ہے۔ خلیجی خطے کے پانیوں میں مبارزت طلبی عالمی اور علاقائی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ امریکہ کے یورپی اتحادی یہی بات امریکہ کو باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں