پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور
حکومت نے پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے اس راستے سے تاشقند کیلئے گوشت کی پہلی کھیپ روانہ کی ہے۔ اس کوریڈور سے برآمدی سامان پہلے گوادر کے گبد ٹرمینل سے ایران اور پھر وہاں سے آگے وسط ایشیا کے ممالک تک پہنچے گا۔ یہ نیا تجارتی راستہ پاکستان‘ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کوریڈور سے ٹی آئی آر نظام کے تحت سامان کی ترسیل سے سرحدی رکاوٹوں اور ترسیلی وقت میں نمایاں کمی آئے گی‘ جس کا براہِ راست فائدہ برآمد کنندگان کو ہو گا۔ وسطی ایشیا کی منڈیاں پاکستانی مصنوعات خصوصاً زرعی اور غذائی اشیا کیلئے وسیع مواقع فراہم کرتی ہیں‘ اور یہ نیا راستہ ان مواقع تک رسائی کو نہایت آسان بنا سکتا ہے۔

تاہم اس کوریڈور کی کامیابی کیلئے مربوط اور مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے سرحدی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا تاکہ سامان کی ترسیل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ کسٹمز کے نظام کو مزید ڈیجیٹل اور شفاف بنانا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کیساتھ تجارتی معاہدوں کو مزید فعال اور سہل بنانا ہوگا۔ اس کیساتھ کولڈ چین لاجسٹکس‘ ویئر ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کا آغاز بلاشبہ ایک اہم سنگ میل ہے مگر اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب اسے ایک پائیدار‘ مؤثر اور وسیع البنیاد تجارتی نظام میں تبدیل کیا جائے۔