اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پاکستان کا امن مشن

وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورۂ سعودی عرب اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ایران ایسے وقت میں ہو ا ہے جب پوری دنیا کی نظریں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے سیاسی و عسکری منظرنامے پر ہیں۔ان اعلیٰ سطحی دوروں کے پسِ منظر میں وہ گہری تزویراتی کوششیں کارفرما ہیں جن کا مقصد دہائیوں پر محیط علاقائی کشیدگی کا خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام ہے۔ چالیس روزہ ایران امریکہ جنگ کے بعد کسی بھی اعلیٰ سطحی غیر ملکی وفد کا یہ پہلا دورۂ تہران ہے‘ جو بطور ثالث پاکستان کے کردار کو تقویت دیتا اور مستقل جنگ بندی کی کوششوں کو اجاگر کرتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی وفد کا دورۂ تہران مصالحتی کوششوں کا حصہ ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ اس امر کی تصدیق کر چکی ہے کہ پاکستان کے ذریعے امریکہ کو پیغامات بھیجنے اور وصولی کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ ہفتے اسلام آباد ایک بار پھر مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اسلام آبادتہران اور واشنگٹن میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے پوری طرح متحرک ہو چکا ہے۔

اب یہ بھی واضح ہو چکا کہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں 21گھنٹے کی طویل نشست محض ایک ملاقات نہیں تھی بلکہ طرفین کو ایک دوسرے کا مؤقف گہرائی تک سمجھنے کا موقع فراہم کرنے کی سنجیدہ کوشش تھی‘ جس نے برف کو کافی حد تک پگھلا دیا ہے۔ اس موقع پر ایرانی حکام کی جانب سے اگلے مذاکراتی دور کو مستقل جنگ بندی کی سمت قدم قرار دینا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے والی ہے‘ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان کی غیر جانبدارانہ اور مصالحانہ کوششیں رنگ لا رہی ہیں اور فریقین میں باہمی اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی صدر کا انداز یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ طاقت کا  استعمال مسائل کے حل کی ضمانت نہیں دے سکتا‘ مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن معاہدے کے لیے فریقین کا مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ناگزیر ہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اس امر کے اشارے بھی مل رہے کہ بیشتر اختلافی معاملات پر اتفاقِ رائے ہو چکا اور چند تکنیکی یا جزوی معاملات ہی اب باقی ہیں۔

اگر اس نازک موڑ پر تھوڑی مزید لچک دکھائی جائے اور فریقین اپنے مؤقف سے ذراسا پیچھے ہٹ کر درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں تو آئندہ ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دورمیں مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن معاہدے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے جس سے مشرق وسطیٰ کے خطے کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ ایران اور امریکہ میں 47 سال سے جاری کشیدگی نے دونوں ملکوں کے تعلقات اور مفادات کو متاثر کیا اور اس کے اثرات اُس پورے خطے اور عالمی معیشت پر بھی پڑے ۔ اب پانچ دہائیوں کی مخاصمت کے بعد ان دونوں ملکوں کا مذاکرات کی میز پر دیرینہ مسائل کو سلجھانا ایک چیلنج ہے لیکن بڑی سے بڑی جنگوں کا اختتام بھی آخرکار مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے۔

اس وقت چین‘ روس‘ برطانیہ اور ترکیہ سمیت دنیا کے بڑی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی استحکام کے لیے متحرک ہیں کیونکہ سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت اور عالمی توانائی کی رسد کا تسلسل اس خطے کے امن سے جڑا ہوا ہے۔ ان قوتوں کا تعاون اور پاکستان کی ثالثی اور مصالحتی سعی اس امن عمل کو وہ اخلاقی اور سیاسی قوت فراہم کر رہی ہے جو ماضی کی کوششوں میں مفقود تھی۔ دنیا کی نظریں اب بھی اسلام آباد اور مذاکرات کے اگلے مرحلے پر ہیں جہاں سے قیام امن کی نوید دنیا میں ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں