مہنگائی مستقل مسئلہ
حکومت کی طرف سے مہنگائی پر قابو پانے کے دعوؤں کے باوجود ہر ہفتے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 12 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے‘ جب سے ایران امریکہ جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ‘ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس دوران پٹرول‘ ڈیزل‘ گیس‘ بجلی‘ ٹرانسپورٹ کرایوں اور تمام اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث غریب عوام کیلئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت کو نہ صرف مارکیٹ میکانزم پر گرفت مضبوط کرنا ہو گی بلکہ کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید میں اضافے کے اقدامات بھی کرناہوں گے۔

عوام کی قوتِ خرید میں کمی کا ایک بڑا سبب اقتصادی جمود اور صنعتی شعبے کی زبوں حالی ہے جس کے سبب ملک میں روزگار کے مواقع اور قوتِ خرید میں کمی آئی ہے۔حکومت کو دوطرفہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ملک میں صنعت اور کاروبار کے لیے معتدل ماحول فراہم کرنا ہو گا تا کہ لوگوں کی آمدنی بڑھ سکے ‘ دوسری جانب مارکیٹ فورسز کو قانونی دائرہ کار میں لانا ہو گا تا کہ عوام کے استحصال کو روکا جاسکے۔