پائیدار امن کی جانب پیش رفت
ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولے جانے کا فیصلہ خوش آئند ہے اور ایران امریکہ معاملات میں پیش رفت کا واضح اشارہ ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں کئی بار جس کا عندیہ دے چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت خاص طور پر توانائی کی نقل و حرکت میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اٹھائیس فروری کو ایرا ن پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد اس گزر گاہ کی بندش سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ گزشتہ روزاس آبنائے کے کھلنے کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈیوں میں تیل کے نرخ گرنا شروع ہو گئے اور دو روز پہلے کے مقابلے میں قیمتیں 13فیصد تک کم ہو گئیں۔ سٹاک مارکیٹوں پر بھی اس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ ایران کے اس اقدام سے ایران امریکہ معاہدے کی راہ سے ایک اوربڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے؛ چنانچہ صدر ٹرمپ کا شکریہ ایران کہنا بر محل ہے۔ اگر معاملات اسی طرح آگے بڑھتے رہے تو ایران امریکہ معاہدے کی راہ میں عملاً کوئی مشکل نظر نہیں آتی اور شرقِ اوسط میں امن کا قیام مزید یقینی ہو جاتا ہے۔

اس دوران لبنان میں اسرائیل کی جانب سے جاری حملے روکے جانے کا اعلان اور دس روزہ جنگ بندی بھی خطے کی مجموعی صورتحال میں ٹھہراؤ اور قیا م امن کی جانب پیش رفت کا سبب بنے گی۔ اس صورتحال میں امریکہ اور ایران کو اعتماد سازی کے مزید اقدامات کی ضرورت ہے اور اس سے بھی اہم یہ کہ ایسے اقدامات سے بچنا ہو گا جو باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنیں۔ مقامِ شکر ہے کہ اب تک کی پیش رفت درست سمت میں ہے مگر حتمی معاہدے اور ایک دوسرے کے دل میں اپنی بات اتارنے اور اپنے حق میں زیادہ رعایتیں حاصل کرنے کے لیے اعتماد کی سطح کو مزید بلند کرنا ہو گا۔ ایران اور امریکہ کو اس سطح پر لانے میں پاکستان کا مثبت اور بھر پور کردار تاریخ کا حصہ بن چکا ہے‘ جسے فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ جنگ بندی کے اعلان کے لیے فریقین کو راضی کرنے سے لے کر اسلام آباد مذاکرات کے اہتمام تک کی پیش رفت کی نظیر حالیہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔ ایران اور امریکہ کی نصف صدی کی تاریخ اختلافات اور عدم اعتماد سے عبارت ہے۔ ایسے فریقین کو ایک میز پر لا بٹھانا آسان کام نہیں‘ اور وہ بھی چھ ہفتوں سے جاری جنگ کے سرے پر۔ اس کے لیے پاکستان کی قیادت نے جو کچھ کیا‘ فریقین کو راضی کرنے کے لیے جو حکمت عملی اپنائی اس کی کامیابی اظہر من الشمس ہے۔
امریکی نائب صدر اور ایرانی سپیکر پارلیمان کے دورے اور مذاکرات کے پہلے دور سے فریقین کو ایک دوسرے کی پوزیشن کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملا‘ بعد ازاں رابطوں اور فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کے دورۂ ایران سے مزید پیش رفت ممکن ہوئی۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا اعلان اسی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ آج اگر اس کی بدولت دنیا میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور سٹاک مارکیٹس میں نمو ہے تو اس کے لیے دنیا کو پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ ایران امریکہ جنگ بندی اور امن کی راہ ہموار کر نے کے لیے پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے اس نے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے امکانات پیداکر دیے ہیں۔ دنیا کے اس اہم ترین خطے کا آپسی اور بیرونی کشیدگیوں میں الجھنا علاقائی اور عالمی امن‘ اقتصاد اور ترقی کے لیے بڑا سنجیدہ خطرہ ہے۔ ایران امریکہ جنگ بندی اور امن معاہدہ‘ جس کے امکانات اب بڑی حد تک واضح ہو چکے ہیں‘ ایران اور عرب ریاستوں کے تعلقات میں بھی اصلاح کا محرک بن سکتا ہے۔ جب معاملات امریکہ کے ساتھ طے ہو سکتے ہیں تو جی سی سی کے ساتھ کیا مشکل ہو گی۔ اس تناظر میں خلیجی خطے کا مستقبل پُرامن‘ ترقی یافتہ اور روشن دکھائی دیتا ہے۔ جس کے ثمرات سے پوری دنیا کو فائدہ حاصل ہو گا۔