اتائیوں کا مسئلہ
ملکِ عزیز میں صحت کا شعبہ سنگین بحران سے دوچار ہے جس سے شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایک خبر کے مطابق پنجاب میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد اتائی کام کر رہے ہیں۔ یہ غیر تربیت یافتہ افراد نہ ادویات کے اثرات سے پوری طرح آگاہ ہوتے ہیں اور نہ ہی خوراک کی درست مقدار سے‘ جس کے باعث مریضوں کی جانیں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے جب یہ عناصر غیر محفوظ طریقۂ علاج سے خطرناک بیماریوں جیسے ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں کیونکہ ایک ہی سرنج بار بار اور طبی آلات بھی جراثیم سے پاک کیے بغیر دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔ دیگر صوبوں میں بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت اتائیوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کریں۔

اس کیساتھ ساتھ عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ صرف مستند معالجین سے ہی رجوع کریں۔ اتائیت کے فروغ کی بڑی وجہ صحت کے سرکاری نظام کی کمزوریاں ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم دستیابی لوگوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ متبادل راستے اختیار کریں۔ لہٰذا سرکاری شعبۂ صحت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور عوام کو معیاری اور بروقت علاج کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ اتائیوں کے پاس جانے پر مجبور نہ ہوں۔