رابطہ کاری اور ہم آہنگی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ پاکستان سے کئی امیدیں وابستہ ہیں۔گزشتہ روز انہوں نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اسلام آباد‘ مسقط اور ماسکو کا دورہ شروع کر رہا ہوں‘میرے دوروں کا مقصد دو طرفہ معاملات پر اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔بظاہر یہ پیشرفت گزشتہ روزنائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عراقچی کی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ہوئی۔ امریکی صدر کے مشرق وسطیٰ کیلئے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف اور داماد جیرڈ کشنر کی بھی پاکستان آمد کی اطلاع ہے۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ دنوں ایران امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے اسلام آباد کی پُر عزم کوششیں جاری ہیں۔ پچھلے چند دنوں کی امریکہ ایران صورتحال میں تناؤ کا عنصر فریقین کے مذاکراتی عمل کیلئے مزاحم ثابت ہوا‘ جسکے اثرات رواں ہفتہ اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کے التوا کا سبب بنے‘ تاہم پاکستان کی مسلسل کوششوں کے نتیجے کے طور پر ایرانی وزیر خارجہ کی مختصر وفد کے ساتھ پاکستان آمد معاملات کی روانی میں معاون ثابت ہو گی۔

امریکہ ایران مذاکرات دہائیوں پر پھیلے ہوئے عدم اعتماد‘ خدشات‘ تحفظات اور اندیشوں کو محیط ہیں؛ چنانچہ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی توقع بے محل ہو گی۔ ہمیں یہ مان کر چلنا چاہیے کہ یہ جوئے شیر لانے کا کام رک رک کر چلے گا اور اس دوران کئی بار غیر متوقع تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ متوازن نقطہ نظر یہ ہو گا کہ ان مذاکرات کے دھاگے کو ٹوٹنے سے بچایا جائے۔ اس سے قطع نظر کہ مذاکرات نتیجے تک پہنچنے میں کتنا وقت لیتے ہیں‘اصل بات یہ ہے کہ رابطہ کاری کا تسلسل برقرار رہے۔ پاکستانی قیادت اسی حکمت عملی پر کاربند ہے۔ اسلام آباد میں متوقع دوسرے مذاکراتی دور میں بظاہر ناکامی کے باوجود فریقین سے رابطہ کاری اور امن و استحکام کے قیام کی پاکستانی کوششوں کا اعتراف‘ متعصب اور غیر منصف ذہنوں کے علاوہ دنیا بھر کو ہے۔ بدھ کی صبح ختم ہونے والے سیز فائر کے دورانیے میں توسیع بھی پاکستانی تجویز ہی پر ہوئی۔ صدر ٹرمپ اس کا ذکر پاکستانی حوالے کے ساتھ تفصیلاً کر چکے ہیں۔ دونوں ملکوں کو چاہیے کہ امن کی کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ اقدامات کریں۔
اس کیلئے دونوں جانب سے قدم اٹھنے چاہئیں۔ پاکستان کی تجویز پر ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کیلئے آبنائے ہرمز کو کھولنا بلا شبہ ایک بڑی پیش رفت تھی مگر امریکہ کی جانب سے جاری ناکہ بندی کے اثرات آزاد تجارت میں رکاوٹ کا سبب بن رہے ہیں اور یہ ایران کو بھی ردعمل میں بندشیں عائد کرنے کی طرف لانے والا عمل ہے۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ اس کی ناکہ بندی ایران کو مذاکرات کیلئے جلد آمادہ کر سکتی ‘ لیکن یہ پہلو بھی مد نظر رہے کہ اس دباؤ کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ بات چیت میں معیاری پیش رفت کیلئے دونوں فریقوں کو پیچھے ہٹنا ہو گا۔ دوسرے فریق کو کمزور اور مذاکرات کیلئے مجبور محض سمجھ لینا امن عمل کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور فریقین میں اعتماد سازی کیلئے بہت بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں رائے عامہ کا دو حصوں میں بٹ جانا اور امن کے حامیوں کے مقابلے میں دفاعی طاقت پر انحصار کرنے کے حامی دھڑوں کے اثر و رسوخ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلئے ضروری ہے کہ فریقین سب سے پہلے اعتماد سازی کے اقدامات میں سنجیدگی دکھائیں تاکہ نیتوں پر شک کی گنجائش نہ رہے۔
ابھی تک اس ضمن میں کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا گیا بلکہ آبنائے ہرمز ایک فریق کی جانب سے کھولے جانے کے بعد دوسرے کی جانب سے ناکہ بندی نے جو تھوڑا بہت اعتماد بنا تھا‘ اسے بھی تحلیل کر دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے درمیان بداعتمادی کی دیوار کا گرنا ہر دو ممالک کے علاوہ علاقائی اور عالمی امن کیلئے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔