اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی کے اسباب

وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 23اپریل کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 14فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران بجلی تقریباً 55فیصد‘ گیس 50‘ پٹرول 44‘ ڈیزل 37‘ آٹا 36اور خشک دودھ تقریباً 11فیصد تک مہنگا ہوا ہے۔ روز افزوں مہنگائی کی وجہ سے متوسط اور غریب آدمی شدید معاشی مسائل کا شکارہے ۔ مہنگائی میں اضافے کے بنیادی عوامل میں توانائی (بجلی، گیس، پٹرول) کی بڑھتی ہوئی  لاگت‘ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ شامل ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش پر 18 فیصد تک جی ایس ٹی عائد ہے‘ جبکہ پٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کم نہیں ہونے دیتی۔

صرف گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران حکومت نے لیوی کی مد میں عوام سے 180ارب روپے وصول کیے۔ بجلی کے بلوں میں بھی مختلف نوعیت کے ٹیکس اور سرچارج شامل ہیں۔ یوں براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کا دباؤ نہ صرف مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے بلکہ عوام کی قوتِ خرید کو بھی تیزی سے کم کر رہا ہے‘ جس کے نتیجے میں متوسط اور نچلے طبقے کی زندگی مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کو مہنگائی کے تدارک کیلئے مارکیٹ میکانزم کو ریگولیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں کے غیرمعمولی بوجھ میں کمی اور عوام کی قوتِ خرید بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں