مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے معاشی اثرات
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علاقائی عدم استحکام کی صورتحال نے پاکستان کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ معاشی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کی حالیہ رپورٹس معاشی خطرات کے سنگین ہونے اور شرح نمو میں کمی کے خدشات ظاہر کر رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں آئی ایم ایف کی ریجنل اکنامک آؤٹ لُک رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث پاکستان کی معاشی شرح نمو میں تقریباً 0.6 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا تاہم اب ماہرینِ معیشت توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مقامی سطح پر سپلائی کی رکاوٹوں کے سبب ملکی معیشت پر دباؤ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونی والی صورتحال کے باعث جی ڈی پی گروتھ کی شرح‘ رواں مالی سال کیلئے جس کا ہدف 4.2 فیصد تھا‘ ڈھائی سے تین فیصد تک رہنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ یہ گراوٹ ایک ایسے معاشی بحران کی غمازی کر رہی ہے جو ملکی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکنے سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ہوشربا اضافہ پاکستان جیسے ملک کیلئے ناقابلِ برداشت بوجھ ثابت ہوا ہے۔

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 80 فیصد خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے اور ملکی معاشی تناؤ کی سب سے بڑی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں کا بے قابو ہونا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور سپلائی چین میں رکاوٹ کے سبب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں 100ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔وسط فروری سے اب تک برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 48 فیصد اضافہ ہو چکا جبکہ مقامی سطح پر بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 52 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔گزشتہ دو ماہ کے دوران صرف پٹرول کی قیمت میں 135روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا۔ ٹرانسپورٹیشن اخراجات بڑھنے کے اثرات تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر انداز ہوئے اور مہنگائی کی ایک نئی لہر اٹھی جس نے سب سے زیادہ نچلے طبقات کو متاثر کیا۔ توانائی کا یہ بحران صرف پٹرولیم مصنوعات تک محدود نہیں ‘ بجلی اور گیس کے نرخوں میں بھی اضافہ ہو رہا۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا غالب حصہ درآمدی ایندھن پر منحصر ہے‘ جس کی وجہ سے بجلی کے ٹیرف میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ صنعتی شعبہ جو پہلے ہی توانائی کی بلند قیمتوں اور خام مال کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث سست روی کا شکار تھا‘ اب مزید دباؤ میں آ گیا ہے۔ ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ پیداواری لاگت میں اضافے سے مقامی صنعتیں عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل نہیں رہیں گی جس سے برآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے میں مزید اضافے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
گیس کی قلت نے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کھادوں اور دیگر اہم صنعتوں کو بھی متاثر کیا ہے جس سے زرعی پیداوار پر منفی اثرات کا خدشہ ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی طول پکڑتی ہے تو پاکستان جیسے ممالک میں مہنگائی کی شرح 17 فیصد تک جا سکتی‘ جو معاشی استحکام کی کوششوں کو صفر کر سکتی ہے۔ لامحالہ کوئی بھی شعبۂ زندگی خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات سے محفوظ نظر نہیں آتا۔ پاکستان کی معیشت جو برسوں کی جدوجہد کے بعد استحکام کی طرف مائل تھی‘ اب دوبارہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ درآمدی بل میں اضافے اور زرِمبادلہ پر بڑھتے دباؤ سے معاشی استحکام خطرے میں ہے۔ اس صورتحال میں آپشنز نہایت محدود ہیں۔ علاقائی استحکام کے لیے کوششوں کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر توانائی کے متبادل ذرائع پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ موجودہ حالات میں عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ نئے سرے سے مذاکرات کر کے معاشی ریلیف حاصل کرنا بھی ضروری ہوتا جا رہا ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز میں حالات جلد معمول پر نہ آئے تو معاشی شرحِ نمو کا ہدف حاصل کرنا تو دور کی بات‘ اقتصادی پہیے کو رواں رکھنا ہی بڑا چیلنج بن جائے گا۔