خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ
لاہور میں خواتین اور بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے بڑھتے ہوئے کیسز انتظامی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ایک خبر کے مطابق رواں سال کے پہلے چار ماہ میں خواتین اور بچوں کے خلاف سنگین جرائم کی مجموعی تعداد 2174 تک پہنچ گئی ہے‘ جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 1983 تھی۔ خواتین سے اجتماعی زیادتی کے کیسز میں 12 فیصد اور بچیوں سے زیادتی کے واقعات میں 47 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ شہر میں ہر روز اوسطاً 10 کے لگ بھگ خواتین اغوا ہو ئیں۔ چار ماہ میں 1104 کیس رپورٹ ہو چکے جو گزشتہ سال 934تھے۔ کمسن بچوں کے اغوا میں بھی گزشتہ سال کی نسبت 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ تحفظ کے حقدار ہوتے ہیں لیکن یہاں صورتحال بالکل برعکس نظر آتی ہے۔

جب تک پولیس پیشہ ورانہ بنیادوں پر جرائم کے خلاف کام نہیں کرے گی‘ سنگین جرائم کا گراف اسی طرح بلند ہوتا رہے گا۔ ضرورت ہے کہ روایتی پولیسنگ کے بجائے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کی جائے اور خاص طور پر ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں یہ وارداتیں تواتر سے ہو رہی ہیں۔ حکومت کو اس ہنگامی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔