اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سندھ طاس معاہدہ‘ عملدرآمد ناگزیر

آبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کے غیر قانونی بھارتی اقدام سے پاکستان کو مستقبل میں پانی کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے اور زراعت کے شعبہ پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زراعت اور پن بجلی کا انحصار براہِ راست سندھ‘ جہلم اور چناب دریائوں پر ہے مگر بالائی ریاست ہونے کے باعث بھارت ان کے بہائو پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کے حصے کے دریائوں پر بھارت کے ڈیم اور آبی منصوبے سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں اور یہ آبی جارحیت نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستان کی سلامتی کیلئے بھی خطرہ ہے۔ پاکستان بارہا واضح کر چکا کہ پانی اس کیلئے ریڈ لائن ہے‘ جسے عبور کرنے کے نتائج بہتر نہیں ہوں گے۔ 1960ء کے سندھ طاس معاہدے میں دونوں ملکوں کے مابین پانی کے مسئلے کو باہمی رضا مندی سے طے کیا گیا تھا اور کسی فریق کو یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو ختم کرنے یا التوا میں ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

ورلڈ بینک‘ جو اس معاہدے کا ضامن ہے‘ پہلے ہی بھارت کو خبردار کر چکا کہ وہ کسی بھی صورت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر رد یا ختم نہیں کر سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ضامن اور ورلڈ بینک اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے بھارت کو معاہدے کی پاسداری پر مجبور کریں‘ ورنہ پانی کا یہ تنازع جنوبی ایشیا کے دو جوہری ممالک کے مابین ایک ایسے تصادم کی راہ ہموار کر سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں