اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

عالمی بحران کے اثرات

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ روز ایک فیصد اضافے کے ساتھ ملک میں شرحِ سود ساڑھے گیارہ فیصد کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا جیسا کہ مانیٹری کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے میکرو اکنامک آؤٹ لک کیلئے خطرات میں اضافہ کیا ہے‘ خاص طور پر توانائی کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتیں‘ مال برداری کے اخراجات اور انشورنس پریمیم اب پہلے سے نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ علاوہ ازیں سپلائی چین میں تعطل نے بے یقینی میں اضافہ کیا ہے۔ ان عالمی تبدیلیوں کے اثرات آنے والے وقت میں اہم معاشی اشاریوں پر ظاہر ہوں گے اور اگلی چند سہ ماہیوں کے دوران مہنگائی ہدف سے اوپر رہے گی۔ اسی بنیاد پر کمیٹی نے قیمتوں میں استحکام کی خاطر سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنا ضروری خیال کیا۔ موجودہ حالات میں افراطِ زر میں اضافے کی وجہ سے شرح سود میں اضافے کی توقع کی جا رہی تھی‘ تاہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ملک عزیز میں شرح سود ایشیائی خطے میں سب سے زیادہ ہے‘ اور بلند ترین سطح کی شرح سود کے معیشت کی نمو پر منفی اثرات اپنی جگہ ہیں۔

کاروبار کی ترقی بڑی حد تک سرمائے کی دستیابی کی مرہونِ منت ہوتی ہے مگر ساڑھے گیارہ فیصد کی شرح سود پہ لیے گئے قرضوں کے ساتھ کاروبار کی لاگت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی اور منافع کی شرح کم ہو جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جہاں بیروزگاری کی شرح خاصی زیادہ ہے اور ملکی آبادی میں نوجوان سب سے زیادہ ہیں اور یہی طبقہ بیروزگاری کا سب سے بڑا شکار ہے‘ یہاں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے جو اقدامات ناگزیر ہیں‘ سستے قرضے ان میں اہم ترین ہیں۔ نوجوان بیشتر صورتوں میں صرف اس لیے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں ہو پاتے کہ ان کے پاس سرمایہ نہیں‘ اور سرمائے کی فراہمی کا عمل ایک کارِ دشوار ہے۔ معاشی صورتحال کا یہ تشویشناک پہلو ملکی معاشی منصوبہ سازوں کی توجہ چاہتا ہے تاکہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں در پیش رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور معاشی نمو میں تیزی آئے‘ صنعتی اور پیداواری سرگرمیاں تیز ہوں اور سرمائے کی حرکت میں اضافہ ہو سکے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے اثرات موجودہ کساد بازاری کا بنیادی سبب ہیں جس کے منفی اثرات نے عالمی معیشت کیلئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ توانائی کی سپلائی میں رکاوٹوں اور عالمی قیمتوں میں بڑے اضافے کے علاوہ اس کشیدگی نے معاشی عدم تحفظ اور عدم اعتمادمیں بھی اضافہ کیا ہے‘ تاہم اس صورتحال میں بہتری کیلئے جاری سفارتی کوششیں درست سمت میں آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہیں اور ان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے معاشی اثرات کو کووڈ کی عالمی وبا سے زیادہ شدید قرار دیا جا رہا ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق گزشتہ ماہ دنیا کی تیل کی تقریباً 10 فیصد اور ایل این جی کے پانچویں حصے کی سپلائی متاثر ہوئی۔ یہ صورتحال عالمی معیشت کیلئے تباہ کن ہے۔ تیل کی قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں۔ اس وقت برینٹ کروڈ 108 ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور عالمی معاشی اثرات آبنائے ہرمز کے تنازعے کے جلد از جلد حل کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ سپلائی چین کا یہ بحران مزید کچھ عرصہ برقرار رہا تو اس کے تباہ کن اثرات ناقابلِ تلافی ہو جائیں گے۔ کمزور معیشت والے ممالک کیلئے یہ صورتحال پہلے ہی بڑا المیہ بن چکی ہے لیکن اس بحران کے تباہ کن اثرات بڑی معیشتوں کیلئے بھی تاریخی خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں؛ چنانچہ ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے کو ایران امریکہ تنازعے کے مجموعی فریم ورک سے الگ کیا جائے۔ نہ ایران اس پر بندشیں عائد کرے اور نہ امریکہ اس کی ناکہ بندی کرے۔ احسن صورت یہ ہو گی کہ متحارب فریق پائیدار امن کی طرف آئیں اور اس کا اہتمام باہمی مذاکرات سے ممکن ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں