اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ایڈز، علاج کی ناکافی سہولیات

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کے مطابق ملک میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 84ہزار تک پہنچ چکی ہے‘ اورصرف 2025ء میں 14ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجوہات میں سرنجوں اور طبی آلات کا غیرمحفوظ استعمال‘ غیرمحفوظ انتقالِ خون‘ ایچ آئی وی ٹیسٹنگ اور علاج کی محدود سہولیات اور سب سے بڑھ کر عوام میں آگاہی کا فقدان شامل ہیں۔ سماجی دباؤ بھی اس مرض کے پھیلاؤ میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ سماجی دباؤ کے باعث بہت سے افراد ایچ آئی وی سہولت مراکز سے رجوع کرنے سے کتراتے ہیں جس کے باعث ان کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن نہیں ہو پاتا۔

ملک بھر میں اس وقت صرف 97 ایچ آئی وی سکریننگ مراکز موجود ہیں جو ملکی آبادی کے تناسب سے ناکافی ہیں۔ ایڈز پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر سکریننگ سنٹرز کی تعداد میں اضافہ یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ موبائل سکریننگ یونٹس اور پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو بھی فعال بنانا ضروری ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز پر ہر صورت عملدرآمد بھی ناگزیر ہے۔ ایڈز ایک لاعلاج مرض ضرور ہے لیکن اس کی بروقت تشخیص‘ مسلسل علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے مریض معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں