اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

توانائی بحران کا امڈتا خطرہ

ورلڈ بینک کی کموڈیٹی مارکیٹس آؤٹ لُک رپورٹ نے دنیا بھر کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کے نظام کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ توانائی‘ خوراک اور صنعتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافے کو قابو میں رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔ ورلڈ بینک کے تخمینے کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں رواں سال 24فیصد اضافے کا امکان ہے۔ عالمی اشیائے صرف کی قیمتیں 16فیصد تک بڑھ سکتیں جبکہ کھاد کی قیمتوں میں 31فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ترقی پذیر ممالک کیلئے خاص طور پر تشویشناک ہو سکتی ہے کیونکہ خوراک‘ توانائی اور زرعی لاگت میں اضافے سے کوئی بھی شعبہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہے گا۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں خلیجی خطے خصوصاً آبنائے ہرمز پر لگی ہوئی ہیں جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ اگر اس حساس بحری راستے پر سے بندشیں فوری دور نہ ہوئیں تو پوری دنیا پر اس کے سنگین اثرات ہوں گے۔ اس وقت عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں یومیہ ایک کروڑ بیرل تک کی تاریخی کمی ہو چکی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ سال خام تیل کی اوسط فی بیرل قیمت لگ بھگ 69 ڈالر کی سطح پر برقرار رہی تھی لیکن حالیہ تنازعات اور سپلائی لائنز کے انقطاع کے سبب اب اس کے 86 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ خلیج کے خطے میں غیر یقینی کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس نے عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ بھی عالمی آئل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافے کا سبب بنا ہے۔ اسی طرح یمن کے قریب خلیج عدن اور بحیرہ احمر کو ملانے والی آبی گزرگاہ‘ باب المندب کی بندش کے خطرے نے بھی بحری تجارت کے رِسک فیکٹر میں اضافہ کر دیا ہے اور پریمیم وانشورنس اخراجات اور فریٹ چارجز میں فی کنٹینر 1500 سے چار ہزار ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان عوامل نے مستقبل میں تیل کے مزید مہنگا ہونے کا اندیشہ پیدا کر دیا ہے۔ ورلڈ بینک نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کھادوں اور اناج کی سپلائی متاثر ہوئی تو مزید کروڑوں لوگ فاقہ کشی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ورلڈ بینک کی کموڈیٹی مارکیٹس آؤٹ لُک کا تخمینہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ مئی میں آبنائے ہرمز کی بندشوں کا خاتمہ ہو جائے‘ تاہم اگر ایسا نہیں ہوتا اور آبنائے ہرمز کی بندش بدستور جاری رہتی ہے تو صورتحال اس سے کہیں بدتر ہو سکتی ہے۔

یہ صورتحال پاکستان جیسے ممالک کیلئے بڑی تشویش کا موجب ہونی چاہیے۔ اگر پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوتا ہے‘ جس کے آثار بظاہر دکھائی دے رہے ہیں‘ تو اس کی بھاری معاشی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ ایران‘ امریکہ جنگ بندی کے بعد نو اپریل کو عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 96 ڈالر کی سطح تک آ گئی تھی‘ جو اَب دوبارہ 115 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو بجلی‘ ٹرانسپورٹ اور مینو فیکچرنگ سمیت ہر چیز کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ ان حالت میں صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے اور وہ ہے داخلی خود کفالت اور متبادل منڈیوں کی تلاش۔ ہمیں توانائی کے شعبے میں روایتی درآمدی ممالک پر انحصار کم کر کے دیگر متبادل خطوں پر بھی متوجہ ہونا پڑے گا۔ ملک میں موجود متبادل توانائی ذرائع کا استعمال ہنگامی بنیادوں پر بڑھانا ہوگا تاکہ تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔ ایک اہم ترین ترجیح زراعت میں خود کفالت ہونی چاہیے تاکہ عالمی مارکیٹ میں اٹھنے والی گرانی کی لہروں سے اپنے معاشی ڈھانچے کو محفوظ رکھا جا سکے۔ وقت آ گیا ہے کہ ملکی قیادت اور ادارے مل کر ایک  جامع اور ہمہ گیر حکمتِ عملی ترتیب دیں جو عالمی بحرانوں کے اثرات سے پاکستان کے غریب عوام کو محفوظ رکھ سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں