اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجلی کی پیداوار کا ہدف

پاور ڈویژن نے پاور سیکٹر کیلئے آئندہ ایک دہائی کا جو خاکہ تیار کیا ہے اس کے مطابق 2035 ء تک ملک کی متوقع معاشی ترقی کیلئے 70 ہزارمیگاواٹ سے زائد بجلی کی پیداواری صلاحیت درکار ہوگی ۔ ملک میں اس وقت 46,605 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ ان دنوں مجموعی طلب 20 سے 22 ہزار میگاواٹ ہے لیکن عملی صورتحال یہ ہے کہ اس وقت چھ ہزار میگا واٹ سے زائد شارٹ فال کا سامنا ہے‘ جس کی وجہ سے عوام کو شدید لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ آر ایل این جی کی عدم فراہمی کے باعث ایل این جی پر چلنے والے پلانٹس کی بندش ہے۔ اس پس منظر میں منصوبہ ساز اداروں کو مستقبل کیلئے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

اگرچہ حکومت نے 2030ء تک ملکی ضرورت کی 60فیصد بجلی قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے لیکن اصل مسئلہ پالیسی کے تسلسل اور عملی نفاذ کا ہے۔ حکومت کی جانب سے بار بار تبدیل ہوتی سولر پالیسیوں نے صارفین کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ توانائی کی منصوبہ بندی کو محض اعداد و شمار تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مربوط اصلاحاتی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس میں قابلِ تجدید توانائی‘ ترسیلی نظام کی بہتری‘ پالیسی کا تسلسل اور طلب و رسد کے حقیقت پسندانہ تخمینے شامل ہوں۔ بصورت دیگر اضافی پیداواری صلاحیت کے باوجود توانائی بحران برقرار رہے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں