تجارتی خسارہ
وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران ملک کا مجموعی تجارتی خسارہ 31 ارب 98کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے‘ جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اپریل میں تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا جو گزشتہ 46 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر چھ فیصد کمی تو تجارتی خسارے میں اضافے کا سبب بنی ہے لیکن درآمدات کا بے تحاشا بوجھ اس میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ دس ماہ میں برآمدات 25ارب21 کروڑ ڈالر تک محدود رہیں جبکہ درآمدات 57ارب19 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس دوران کلیدی برآمدی شعبے یعنی ٹیکسٹائل سیکٹر کی کارکردگی بھی خاطر خواہ نہیں رہی۔

دس ماہ کے دوران اس شعبے کی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر محض 1.04فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا‘ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی برآمدی بنیاد نہ صرف محدود ہے بلکہ کمزور بھی ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کو ایک ایسی تجارتی پالیسی وضع کرنی چاہیے جس میں درآمدات کو ترجیحی بنیادوں پر محدود کیا جائے اور مقامی پیداوار کو فروغ دیا جائے۔ اسی طرح برآمدی صنعتوں کو سستی توانائی کی فراہمی‘ ٹیکس میں ریلیف اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے تاکہ وہ عالمی منڈی میں مسابقت پیدا کر کے برآمدات بڑھا سکیں۔