پٹرولیم مہنگائی کے اثرات
اوگرا کے مطابق اپریل میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی ماہانہ فروخت مارچ کے مقابلے میں چھ فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر سات فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارچ میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت تقریباً 1.44 ملین ٹن تھی جو اپریل میں کم ہو کر 1.36 ملین ٹن رہ گئی۔ پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں کمی کو محض کھپت میں کمی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا‘ یہ دراصل مجموعی معاشی سرگرمیوں میں سست روی کی علامت ہے۔ اپریل کے دوران پٹرول کی قیمت میں 24 اور ڈیزل کی قیمت میں 19فیصد ماہانہ اضافے کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ سرگرمیاں سکڑ گئیں‘ زرعی شعبے میں ڈیزل کی طلب کم ہوئی اور کم آمدن طبقے کی کھپت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔

اگرچہ عالمی اور علاقائی حالات پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں تاہم حکومت ان مصنوعات پر عائد لیوی اور دیگر ٹیکسوں میں مناسب کمی کے ذریعے قیمتوں کو کسی حد تک قابو میں رکھ سکتی ہے‘ جس سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو بھی سہارا ملے گا۔ معیشت کا پہیہ اسی وقت رواں رہ سکتا ہے جب توانائی کی بنیادی لاگت قابلِ برداشت سطح پر ہو۔مزید برآں توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف سنجیدہ پیش رفت‘ پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کی بہتری اور توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری کی پالیسیوں کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ محض وقتی اقدامات کے بجائے ایک جامع اور دوررس حکمت عملی ہی اس بحران کا پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔