اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

قومی اتحاد اور مستحکم پاکستان کا عزم

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ معرکۂ حق عوام‘ حکومت اور افواجِ پاکستان کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت ہے‘ جو اندرونی و بیرونی چیلنجز کے مدمقابل بنیانٌ مرصوص کی مانند یکجا کھڑی ہیں۔ 275ویں کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے ملک میں جاری انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمانڈرز اور فارمیشنزکے عزم‘ مستعدی اور کامیابی کو سراہا اور روایتی اور غیر روایتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ موجودہ علاقائی صورتحال اور عالمی حالات کے تناظر میں کور کمانڈر کانفرنس کا پیغام بہت اہم ہے۔ اس کانفرنس میں جہاں سرحدوں کی حفاظت اور درپیش سکیورٹی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وہاں قومی اتحاد کو بھی بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر اس کانفرنس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ ملک کے دفاع کیلئے ریاست کی تمام اکائیاں یکجا ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کیلئے مستعد ہیں۔ معرکۂ حق ہمارے قومی اتحاد‘ اجتماعی عزم اور پاکستان کی خود مختاری کے تحفظ کے اس غیر متزلزل عہد کی عکاسی کرتا ہے جو ہم نے مشکل ترین حالات میں بھی برقرار رکھا ہے۔

یہ یاددہانی ہے اس امر کی کہ جب قوم کا بچہ بچہ دفاعِ وطن کیلئے اپنی افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوتا ہے تو بڑی سے بڑی طاقت اور بڑے سے بڑے چیلنج سے نمٹنا مشکل نہیں ہوتا۔ آج جب ہم قومی سطح پر معرکۂ حق کی یاد منا رہے ہیں تو یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ محض ایک قومی فتح کا جشن نہیں ہے بلکہ ملک پر میلی نظر ڈالنے والوں کیلئے ایک واضح اور دو ٹوک پیغام بھی ہے کہ پاکستانی قوم اپنے دفاع کے معاملے میں کسی غفلت کا شکار نہیں ہے۔ یہ قومی اتحاد دشمن کو باور کرانے کیلئے کافی ہے کہ پاکستان ایک زندہ‘ بیدار اور ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار قوم ہے۔ دشمن کی کسی بھی مہم جوئی یا اشتعال انگیزی کا جواب دینے کیلئے پاکستان کی عسکری قوت اور عوامی جذبہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مربوط ہو چکا ہے۔ عالمی منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو آج پاکستان کیلئے سفارتی حالات کافی سازگار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ حکومت کیلئے ایک بڑا اور تاریخی موقع ہے کہ سفارتی فضا کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے دیرینہ مسائل‘ بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی برادری کی حمایت حاصل کرے۔ سفارتی محاذ پر حاصل کردہ کامیابیوں کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کا بیانیہ دنیا بھر میں مزید مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔

بین الاقوامی برادری آج پاکستان کے امن پسند کردار اور خطے میں استحکام کیلئے اس کی کوششوں کو تسلیم کر رہی ہے ‘لہٰذا اس سازگار ماحول کو قومی مفادات کے تحفظ کیلئے مؤثر انداز سے بروئے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جہاں ہم بیرونی محاذ پر مضبوط ہو رہے ہیں وہیں ہمیں اندرونِ ملک معاملات میں سدھار لانے کی بھی ضرورت ہے۔ ملکی استحکام کا دارومدار سرحدوں کی حفاظت ہی پر نہیں عوامی فلاح وبہبود اور داخلی خوشحالی پر بھی ہے۔ حکومت کو اپنی توجہ عوام کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے‘ معیشت کی بہتری اور سماجی انصاف کی فراہمی پر مرکوز کرنا چاہیے۔ ماضی کی کمیوں‘ کوتاہیوں اور محرومیوں کا ادراک اور ان کا ازالہ کرنا ہی ایک ترقی یافتہ ریاست کی علامت ہوتی ہے۔ ہمیں ایمانداری سے ماضی کا جائزہ لیتے ہوئے اب اپنی سمت کا دوبارہ تعین کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی اخوت اور یگانگت کی صورت میں ہمارے پاس وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

معرکۂ حق کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ کامیابی محض مادی وسائل سے نہیں ملتی بلکہ جذبہ اور اتحاد بھی اس کا ناگزیر تقاضا ہے۔ ہمیں قومی اتحاد کو نہ صرف برقرار رکھنا ہے بلکہ اسے مزید گہرا اور مضبوط کرنا ہے تاکہ آنیوالی نسلوں کو پُرامن‘ خوشحال اور باوقار معاشرے کاتحفہ دے سکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں