اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

معرکہ حق کے ثمرات

معرکۂ حق میں حاصل ہونے والی تاریخی کامیابی کو ایک سال مکمل ہوا۔ اس ایک سال کے دوران پاکستان کو عالمی سطح پر جو سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں اور دنیا میں پاکستان کے مقام و مرتبے میں اضافہ ہوا وہ عسکری کامیابی کے اثرات کا تسلسل اور وسیع تر ریاستی حکمتِ عملی اور متوازن خارجہ پالیسی کا ثمر ہے۔ گزشتہ برس چھ اور سات مئی کی درمیانی شب جب بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے چھ شہروں پر میزائل حملے کیے تو افواجِ پاکستان نے نہ صرف دشمن کے عزائم فوری طور پر خاک میں ملا دیے بلکہ فوری ردِعمل دیتے ہوئے چند ہی لمحوں میں دشمن کے سات جنگی طیارے مار گرائے۔ اس کارروائی نے بھارتی فضائی برتری کا زعم چکنا چور کر دیا۔ بھارت فرانس سے جدید رافیل طیارے خریدنے کے بعد علاقائی برتری کا خواب سجائے بیٹھا تھا مگر رافیل طیارے بھارتی غرور سمیت زمین بوس ہو گئے۔ مودی حکومت کیلئے اپنے عوام سے اس سبکی کو چھپانا ناممکن ہو گیا جبکہ پاکستان کے عوام ‘ حکومت اور افواجِ پاکستان بھارتی جارحیت کے مقابلے میں بنیانٌ مرصوص کی مانند یکجا کھڑی ہو گئیں۔ اُس روز تاریخ کے اُفق پر ایک ایسا باب رقم ہوا جس نے جرأت‘ عزم اور قومی وحدت کو نئی معنویت عطا کی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار‘ خودمختار‘ امن پسند اور سٹرٹیجک توازن رکھنے والی قوت کے طور پر منوایا ہے۔

اس تبدیلی میں اگرچہ عسکری پیشہ ورانہ کارکردگی کا کردار اہم ہے لیکن سفارتی محاذ پر بروقت‘ مدلل اور مربوط مؤقف بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس عظیم کامیابی کا کریڈٹ پاکستان کی عسکری قیادت کی بر وقت‘ درست‘ مؤثر فیصلہ سازی اور افواج کی پیشہ وارانہ تیاری کو جاتا ہے۔ پاکستانی ردِعمل کی شدت نے بھارت کو سفارتی سطح پر بھی دباؤ کا شکار کر دیا۔ معرکۂ حق کی کامیابی نے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا۔ اس ایک سال کے دوران پاکستان کیلئے کئی سفارتی دروازے کھلے ہیں۔ معاشی اور دفاعی تعاون اور علاقائی روابط کے حوالے سے جو پیش رفت سامنے آئی‘ وہ اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اب دنیا پاکستان کیساتھ تعلقات کو محض سکیورٹی کے زاویے سے نہیں بلکہ ایک وسیع تر شراکت داری کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ یہ تبدیلی کسی وقتی لہر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل کا حاصل ہے جس میں ریاستی اداروں نے اپنی اپنی سطح پر کردار ادا کیا۔تاہم اس تمام پیش رفت کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ سفارتی کوششوں‘ مستقل مزاجی‘ اندرونی استحکام اور پالیسی کے تسلسل کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتی۔

معرکۂ حق کی یاد یہ سکھاتی ہے کہ کامیابی صرف میدان میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے ثمرات کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل دانش‘ ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی ناگزیر ہوتی ہے۔آج جب  معرکہ حق کی پہلی سالگرہ منائی جا رہی ہے ‘یہ لمحہ محض جشن کا نہیں بلکہ سنجیدہ غور و فکر کا بھی متقاضی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ اس عسکری کامیابی کو ترقی کے سفر کا محرک بنایا جائے تاکہ پائیدار اور مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھی جاسکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں