اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پائیدار امن اور امید افزا پیش رفت

مشرقِ وسطیٰ کے سنگین ہوتے بحران میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور دیگر ممالک کی اپیل پر فوجی آپریشن کی معطلی کا اعلان ایک مثبت پیش رفت ہے جس نے امن کی ٹوٹتی ہوئی امیدوں کو سہارا دیا ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران آبنائے ہرمز میں ہونیوالی امریکی کارروائیوں نے جس طرح عالمی بحری گزرگاہ میں تصادم کے خطرے کو بڑھایا تھا‘ اس نے دنیا کو ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ خلیجی بندرگاہ اور بحری جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد یہ خدشہ تقویت پکڑ رہا تھا کہ دونوں فریق جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کر کے دوبارہ جارحانہ حکمت عملی اپنا سکتے ہیں۔ تاہم یہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور دیگر ممالک کی کاوشوں سے صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو ریسکیو کرنے کے آپریشن کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی آپریشن کی معطلی سفارتکاری کو ایک اور موقع دینے کی کوشش ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس اقدام کو خطے میں امن‘ استحکام اور مفاہمت کو آگے بڑھانے میں اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے پائیدار معاہدے کی راہ ہموار ہو گی جو خطے میں امن واستحکام یقینی بنائے گا۔اس وقت پوری دنیا توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور معیشت پر ان کے اثرات کو جس طرح بھگت رہی ہے اس سے امن کی خواہش مزید شدت کے ساتھ ابھری ہے۔

امریکی جائزے کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خلیج میں اس وقت 1550تجارتی جہاز اور ان پر سوار تقریباً ساڑھے 22ہزار افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث دنیا بھر میں تیل وگیس اور دیگر تجارتی اشیا کی رسد میں کمی آئی ہے۔ جب تک یہ بحری راہداری مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتی اور ان جہازوں کو محفوظ راستہ نہیں ملتا‘ تب تک عالمی معیشت پر سے جنگ کے اثرات کم نہیں ہوں گے۔ مہنگائی کا طوفان جو اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے‘ اسکی جڑیں خلیج فارس کے عدم استحکام میں پیوست ہیں۔ سپلائی لائن کی اس بندش نے ثابت کر دیا ہے کہ آج کی دنیا ایک دوسرے سے اس قدر مربوط ہے کہ ایک خطے کا امن دوسرے خطے کی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ یہ امر امید افزا ہے کہ عالمی برادری کی سفارتی کوششوں سے تہران اور واشنگٹن کے مابین مکالمے کی وہ کھڑکی کھلی ہے جس نے حتمی معاہدے کی امید پیدا کر دی ہے۔ ایران کا امریکی تجاویز پر غور کرنے کا اعلان اور امریکہ کی جانب سے جلد پائیدارمعاہدے کی توقع اس بات کی علامت ہے کہ فریقین اب باہمی تصادم کی قیمت کا ادراک کر چکے اور ایک مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب پیشرفت کر رہے ہیں جو خطے میں جاری عدم استحکام کو ختم کرنے کا باعث بنے۔

یہ اس امر کا بھی اظہار ہے کہ کشیدگی کے باوجود سفارتی چینلز فعال ہیں اور دونوں ممالک میں حائل خلیج کو پاٹنا اب ناممکن نہیں رہا۔ تاہم اس عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ بے یقینی ہے جو فوجی کارروائیوں اور اشتعال انگیز بیان بازی کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ ان امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بلندیوں پہ پہنچ گئی تھیں‘ گو کہ تنائو میں کمی کے ساتھ قیمتوں میں پانچ سے نو فیصد کمی آ گئی ہے مگر اس اتار چڑھائو سے پاکستان جیسے ممالک کی معیشتیں براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے مابین پائیدار امن کا حتمی معاہدہ نہ صرف ان دونوں ممالک کیلئے بلکہ پوری انسانیت کیلئے ناگزیر ہے۔ جنگ کے بادلوں کو چھٹنا چاہیے اور بارود کی جگہ ترقی و خوشحالی کا تبادلہ ہونا چاہیے۔ بھڑکتے ہوئے شعلوں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے محض خلوصِ نیت اور باہمی احترام پر مبنی سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ عارضی جنگ بندی کو پائیدار استحکام میں بدلنا ہر اُس انسان کی تمنا ہے جو جنگ کی ہولناکیوں سے واقف ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں