گندم پالیسی اور مشکلات
پنجاب میں گندم کی خریداری سے متعلق نئی خریداری پالیسی ثمرات سے محروم نظر آ رہی ہے۔ صوبائی حکومت نے گندم کی خریداری نجی شعبے کے حوالے کی تھی جس کا بنیادی مقصد گندم کی خریداری اور سبسڈی سے متعلق 680 ارب روپے کے بوجھ کو کم کرنا تھا‘ تاہم گیارہ نامزد فرموں میں سے کم از کم نو نے تاحال گندم خریداری کا آغاز نہیں کیا‘ وجہ ہے بینکوں سے قرضے کے حصول میں مشکلات اور بلند شرح سود‘ جس نے نجی خریداروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ ایسے میں کسان دوبارہ مڈل مین اور آڑھتیوں کے رحم و کرم پر ہیں اور اپنی فصل سرکاری نرخ سے کم پر بیچنے میں مجبور ہیں۔ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کر رکھی ہے اور اوپن مارکیٹ میں ریٹ 3700 روپے کے لگ بھگ ہے مگر فائدہ سارا مڈل مین اٹھا رہا ہے۔

اگر فصل کی کٹائی کے فوری بعد کسان کو اپنی محنت کا جائز معاوضہ نہ ملے تو وہ اگلی فصل کی تیاری سے قاصر رہتا ہے۔ حکومت کو نہ صرف گندم پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے بلکہ فوری طور پر نجی کمپنیوں کو فعال بنانا اور ان کے مسائل کو حل کرنا بھی ناگزیر ہے۔ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ کسان کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملے کیونکہ کسانوں کی جانب سے گندم روک لینے یا کم قیمت پر فروخت کرنے کے نتیجے میں ذخیرہ اندوزی بڑھے گی‘ جس کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑے گا۔