اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بنوں میں دہشت گردی

ہفتے کو رات گئے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے بارودی کار حملے میں 15 اہلکار شہید ہو گئے۔ دہشت گردی کا یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شکست خوردہ دہشتگرد ریاست کے امن وامان کو چیلنج کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا دہشتگردی سے سب سے متاثرہ صوبہ ہے‘ جہاں سکیورٹی ادارے اور شہری روزانہ کی بنیاد پر قربانیاں دے رہے ہیں۔ جغرافیائی محل وقوع اور افغان سرحد کے پار سے ہونے والی مداخلت نے اس خطے کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بنانے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی فورسز کی کامیاب حکمت عملی سے دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ دہشت گردی کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی مسئلہ ہے جس کے سدباب کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا ہو گا۔

ان بزدلانہ حملوں سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ دہشت گرد اب پسپا ہو رہے ہیں اور رات کے اندھیرے میں حملے کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جس طرح فرنٹ لائن حفاظتی حصار کا کردار ادا کیا ہے‘ وہ قابلِ ستائش ہے۔ ضروری یہ کہ اس ناسور کے مکمل سدباب کیلئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائی جائے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا بھی خاتمہ کیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ بیانیے کی بھی جنگ ہے جس میں پوری قوم کو متحد ہو کر شرپسند عناصر کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں