معرکۂ حق اور قومی عزم
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جی ایچ کیو میں معرکۂ حق کی یاد میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دو ممالک کے درمیان جنگ نہ تھی‘ دو نظریات کے مابین فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں باطل کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ فیلڈ مارشل نے دہشت گردی کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے والے عوام‘ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بہادر اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کو دہرایا کہ ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا حساب لیا جائے گا اور یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر قائم دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مراکز کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے۔ معرکۂ حق کی یاد میں پاکستان مانومنٹ پر منعقدہ تقریب سے وزیراعظم شہباز شریف نے مسلح افواج کی قیادت‘ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر‘ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

معرکۂ حق کے ثمرات کو یاد کیا جائے تو ان میں اہم ترین یہ ہے کہ اس عظیم فتح کے احساس نے پاکستان کواس فضا سے نکلنے میں مدد کی جو ایک طویل عرصے سے ہمارے قومی منظر پر طاری تھی۔ دہشت گردی اور معاشی مسائل میں گھرا ہوا پاکستان عالمی اور علاقائی سطح پر وہ کردار ادا نہیں کر پا رہا تھا جو پاکستان کا دنیا کے اس حصے میں بنتا ہے۔ معرکۂ حق کی برکت سے پاکستان کے سر سے وہ سائے چھٹ گئے اور اس کے بعد علاقائی اور عالمی سطح پر ملکِ عزیز کا مقام ومرتبہ ایک نئی شان سے اُبھر کر دنیا کے سامنے آیا۔ بھارت کو شکست فاش سے دوچار کرنے کے بعد اس سال دفاعی حوالے سے دوسری بڑی پیشرفت سرحد کے ادھر اور اُدھر دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی فیصلہ کن کارروائیاں ہیں۔ پاکستان عرصہ دراز سے افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے نشانے پر تھا اور افغان عبوری حکومت کو ہر طرح سے اتمام حجت کی گئی مگر افغانستان نے پاکستان کے مطالبات کو مان کر نہیں دیا اور دہشت گردی کے واقعات شدت اختیار کرتے چلے گئے۔ اس صورتحال میں پاکستان کی جانب سے جو دفاعی اقدامات کئے گئے ان کے اثرات جلد ہی سامنے آنا شروع ہو گئے‘ اور جیسا کہ فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں کہا‘ پاکستان دہشتگردی سے نمٹنے میں پہلے سے کہیں زیادہ پُرعزم اور مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
بھارت کیلئے یہ دوسری بڑی شکست ہے جو مئی 2025ء کے بعد اسے پاکستان کے ہاتھوں اٹھانا پڑی۔ اب اصل چیلنج داخلی مسائل سے نمٹنے کا ہے اور ان میں سب سے اہم معاشی مسئلہ ہے۔ پاکستان نوجوان اکثریتی آبادی والا ملک ہے‘ جو ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ اگر روزگار اور ترقی کے امکانات ہوں تو موقع بصورتِ دیگر چیلنج۔ نوجوان نسل کو تعلیم وتربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کر نے کیلئے سرمایہ کاری اور صنعتکاری کی ضرورت ہے۔ سی پیک کی بدولت پاکستان عالمی ترقی کے ایک روشن مستقبل کا حصہ دار ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں صنعتکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھائے جائیں۔ اسی سے روزگار فراہم ہوگا‘ لوگوں کی معاشی حالت سنبھلے گی اور سماجی اطمینان پیدا ہوگا۔ مقام شکر ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور پہچان میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ایک برس پہلے اگر دنیا میں معرکہ حق کی عسکری فتح یابیوں کے چرچے تھے تو آج امریکہ اور ایران میں کلیدی ثالث کے طور پر ملکِ عزیز عالمی توجہ کا مرکز ہے۔
پاکستان کو قدرت نے بے پناہ مواقع عطا کئے ہیں۔ زرخیز زمین‘ باصلاحیت افرادی قوت‘ معدنی وسائل اور بے مثال جغرافیہ۔ ان صلاحیتوں کو معاشی امکانات میں تبدیل کرنا ہو گا تا کہ آئندہ برس جب ہم معرکۂ حق کا دن منا رہے ہوں تو ہمارے سامنے معاشی کارناموں کی ایک فہرست بھی ہو جو اس عرصے میں ہم نے سرانجام دیے۔