اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

شعبہ صحت کا بحران

12مئی کو نرسوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے‘ جس کا مقصد اس شعبے سے وابستہ افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو دن رات مریضوں کی دیکھ بھال‘ علاج معالجے میں معاونت اور انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے خدمات انجام دیتے ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں یہ دن صرف تعظیم و تحسین تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک سنگین بحران کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ پاکستان نرسنگ کونسل کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ نرسوں کی تعداد صرف ایک لاکھ 19 ہزار 737 ہے جبکہ موجودہ آبادی اور عالمی طبی معیار کے مطابق یہ تعداد کم از کم 11 لاکھ تک ہونی چاہیے۔یہ فرق ایک ایسے نظامِ صحت کی کمزوری کی علامت ہے جو پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔لاکھوں کی تعداد میں نرسوں کی کمی کے اثرات براہِ راست مریضوں کی جانوں کے تحفظ اور علاج کے معیار پر پڑ رہے ہیں۔

ایک نرس کو بعض اوقات درجنوں مریضوں کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے جس سے نہ صرف جسمانی و ذہنی دباؤ بڑھتا ہے بلکہ طبی غلطیوں کا بھی احتمال ہوتا ہے۔ نتیجتاً مریضوں کو بروقت اور معیاری دیکھ بھال میسر نہیں آتی۔ اس بحران کی بنیادی وجوہات میں کم تنخواہیں‘ محدود سہولتیں اورطویل ڈیوٹی اوقات شامل ہیں۔ حکومت کو نرسوں کی تنخواہوں اور مراعات میں نمایاں اضافہ‘ نئی بھرتیوں میں تیزی اور تربیتی معیار میں بہتری لانی چاہیے بصورت دیگر طبی نظام مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں