اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کے اسباب

اندیشوں کے عین مطابق بنوں میں پولیس چوکی پر دہشت گردی کے حالیہ سنگین وقوعے کی منصوبہ بندی میں بھی افغان دہشت گردوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے احتجاجی مراسلہ دینے کیلئے افغان ناظم الامورکو گزشتہ روز دفتر خارجہ طلب کیا گیا تھا۔ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کیلئے مسلسل استعمال کرنے پر پاکستان کے شدید تحفظات کا اعادہ کرتے ہوئے افغان فریق پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستان اس وحشیانہ فعل کے مرتکب افراد کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی آماجگاہیں پاکستان سمیت پورے خطے کی سکیورٹی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ اصولی طور پر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی افغانستان کی عبوری حکومت کی ذمہ د اری تھی‘ جو خود یا علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے مشترکہ کارروائیاں کرتی‘ مگر ہوا اس کے برعکس۔ نہ صرف یہ کہ افغان رجیم نے دہشت گردوں کے وجود سے انکار کیا بلکہ اُن کے جرائم پر بھی ہمیشہ پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور دہشت گردی کے واقعات کے گمراہ کن عذر تراشے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کا ناسور پھیلتا چلا گیا۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران‘ جب سے افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت قائم ہوئی ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور دہشت گردانہ حملوں کی شدت بھی بڑھتی چلی گئی۔ دہشت گردی کے ان سبھی واقعات کے ڈانڈے افغانستان سے ملے۔ یہ دہشت گردی میں استعمال ہونیوالا اسلحہ اور گولہ بارود ہو یا دیگر ہتھیار‘ دہشت گردی اور افغانستان بہرحال لازم وملزوم رہے۔ اس اندوہناک صورتحال کے بارے افغانستان کو خبردار کرنے کیلئے حکومتی سطح پر جو کچھ ممکن تھا پاکستان کی جانب سے کیا گیا۔ اعلیٰ سطحی وفود متعدد مرتبہ کابل کا دورہ کر چکے‘ افغانستان میں مقیم دہشت گردوں کے حوالے سے شواہد افغان عبوری حکومت کے حوالے کئے گئے‘ علمائے کرام کو بھی بروئے کار لایا گیا مگر ایک ہمسایہ ملک ہونے کے ناتے افغانستان کی جو ذمہ داریاں بنتی تھیں نہ ان کا لحاظ کیا گیا اور نہ ہی عالمی قواعد وضوابط کی پاسداری کی گئی۔

افغانستان کے حکمرانوں نے بیشتر اوقات پاکستان کی شکایات کا ذمہ دارانہ جائزہ لینے کی زحمت ہی نہیں کی‘ بجائے اس کے مسئلے کو خلط مبحث سے مزید الجھایا گیا۔ اس صورتحال میں پاکستان کے پاس اپنے دفاع میں اقدامات کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچتا تھا‘ جسے پاکستان نے افغان فریق کی غیر فعالیت کے بعد اختیار کیا۔ فروری کے آخر میں شروع کی گئی ان کارروائیوں کے اہم نتائج سامنے آئے۔ دہشت گردی کے واقعات جو گزشتہ برس میں روز کا معمول بن چکے تھے‘ ان کارروائیوں کے بعد ان میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ خیبر پختونخوا پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشتگردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف آپریشن غضب للحق کے بعد خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد کمی آئی۔ سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والے ایک تحقیقی ادارے کی مارچ کی رپورٹ کے مطابق اس سال فروری میں دہشت گردی کے واقعات میں 132 عام شہری لقمہ اجل بنے‘ جبکہ مارچ میں یہ تعداد 39 تھی‘ یہ 70 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔

اپریل میں بھی دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی اور ان واقعات میں ہونیوالی اموات میں بھی۔ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے جانی نقصان میں بھی نمایاں کمی ہوئی‘ جو مارچ میں 59تھی اور اپریل میں 28‘ یعنی 53 فیصد کمی آئی۔ یہ اعداد وشمار واضح کرتے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن غضب للحق نتائج خیز ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔ پاکستان کو اس کی ضرورت پیش نہ آتی اگر افغان رجیم کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا۔ یہ اعداد وشمار پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی بھی تائید کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے اسباب افغانستان میں ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں