اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آئی ٹی برآمدات

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت آئی ٹی و ٹیلی کام کے جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ملک کی آئی ٹی برآمدات 4.5 سے 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران آئی ٹی برآمدات کا حجم تین ارب 39 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک کی مجموعی آئی ٹی برآمدات تین ارب 80 کروڑ ڈالر رہیں جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تھی۔ اس سال چار ارب ڈالر سے زائد برآمدات کا ہدف عبور ہونا اس شعبے کی ترقی کو واضح کرتا ہے اور اس فیلڈ میں موجود بے پناہ پوٹینشل کو بھی اجاگر کر تا ہے۔ پاکستان دنیا میں فری لانسنگ خدمات فراہم کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔

لاکھوں نوجوان عالمی کمپنیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے قیمتی زرِ مبادلہ ملک میں لا رہے ہیں۔ مگر ان نوجوانوں کو اب بھی بینکاری مسائل‘ ادائیگیوں اور وصولی کی رکاوٹوں‘ ٹیکس پیچیدگیوں‘ انٹرنیٹ کے ناقص نظام اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ آئی ٹی سیکٹر کو قومی اقتصادی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنائے۔ اگر جامع منصوبہ بندی‘ پائیدار پالیسیوں‘ تیز رفتار انٹرنیٹ‘ معیاری تکنیکی تعلیم اور سرمایہ کاری دوست ماحول کو یقینی بنایا جائے تو یہ شعبہ آنے والے برسوں میں ملکی معیشت کو حقیقی استحکام فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں