منشیات فروشوں کا چیلنج
کراچی میں ڈرگ نیٹ ورک سے جڑے حالیہ کیس نے اس خوفناک حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ منشیات کا کاروبار اب اندھیروں اور خفیہ ٹھکانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ کھلے عام ریاستی رِٹ کو چیلنج کررہا ہے۔ سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ انسدادِ منشیات اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ناسور کو ختم نہیں کر سکے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ منشیات فروش منظم اور بااثر ہیں اور ریاستی عملداری اور قوانین کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں۔ منشیات فروشی کسی ایک شہر کا مسئلہ نہیں یہ لعنت ملک بھر میں پھیل چکی ہے اور دھڑلے سے جاری ہے۔ یہ سب کچھ اُن اداروں کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے جو اس لعنت کے خاتمے کے ذمہ دار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ منظم گروہ اتنے طاقتور کیسے ہو گئے‘ کیا انہیں قانون کا خوف نہیں رہا یا قانون کی گرفت کمزور پڑ چکی ہے؟

کراچی سے سامنے آنے والا حالیہ کیس متعلقہ حکام کیلئے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ ضروری ہے کہ ریاست منشیات فروشوں کے خلاف سخت اور مثالی کریک ڈاؤن کرے اور اس معاملے میں دقیقہ فروگزاشت نہ کی جائے۔ ملک بھر میں سرگرم منشیات فروش گروہوں کے پورے ڈھانچے کو توڑنااور ان عناصر کے مالی ذرائع‘ سپلائی چین‘ سہولت کاروں اور پشت پناہی کرنے والوں کو انجام تک پہنچانا ایک ایسا چیلنج ہے جو ملک کو منشیات کی لعنت سے بچانے کیلئے ناگزیر ہے۔