گیس پر سبسڈی ختم؟
حکومت نے گیس صارفین کو دی جانے والی تقریباً 140 ارب روپے کی کراس سبسڈی کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو گیس سیکٹر میں اصلاحات‘ مالی نظم و ضبط اور صنعتوں پر اضافی بوجھ کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے مگر اس کے سب سے زیادہ اثرات گھریلو صارفین پر پڑیں گے جو پہلے ہی معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ موجودہ نظام کے تحت کم گیس استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین کو کم نرخوں پر گیس فراہم کی جاتی تھی۔ اب حکومت اس نظام کو ختم کرکے تمام صارفین کیلئے یکساں اوسط گیس ٹیرف نافذ کرنا چاہتی ہے جس سے کم آمدنی والے گھریلو صارفین کے بلوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

عوام پہلے ہی مہنگی بجلی‘ مہنگی گیس‘ مہنگی پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خورونوش کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر کراس سبسڈی بھی ختم ہو گئی تو لاکھوں خاندانوں کیلئے اپنے ماہانہ اخراجات پورے کرنا مزید دشوار ہو جائے گا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا تمام تر بوجھ صرف صارفین پر ڈال دینا مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔ حکومت کو گیس کی ترسیل میں نقصانات‘ چوری‘ نااہل انتظامی ڈھانچے اور گردشی قرضوں کی بنیادی وجوہات پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ ضروری ہے کہ حکومت توانائی اصلاحات کے ساتھ ساتھ عوامی ریلیف کو بھی اپنی اولین ترجیح بنائے۔ شہریوں کو بنیادی ضروریاتِ زندگی قابلِ برداشت قیمتوں پر فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ باعزت طریقے سے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔