ڈانواں ڈول معیشت
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ ملکی معیشت کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس رپورٹ میں عارضی استحکام کا اعتراف بھی ہے اور درپیش سنگین اندرونی وبیرونی خطرات کی نشاندہی بھی۔ مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پاکستان کے میکرو اکنامک منظرنامے کیلئے بڑا بیرونی خطرہ بن کر آئی ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی بے یقینی‘ بین الاقوامی سپلائی چین میں خلل اور تیل سمیت بنیادی اشیا کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ ملکی معیشت کے استحکام کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔ اس بحران کا خلیجی ممالک سے پاکستان آنیوالی ترسیلاتِ زر پر براہِ راست اثر کا بھی خدشہ ہے۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران کُل ترسیلاتِ زر میں خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کا حصہ تقریباً 55 فیصد رہا مگر تیل و گیس کے سپلائی روٹ میں رکاوٹوں اور خلیجی ممالک میں معاشی امکانات محدود ہونے سے کارکنوں کی طلب میں کمی آئی ہے‘ جس سے پاکستان کی افرادی قوت اور خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی بھیجی جانے والی رقوم میں کمی کے خدشات ہیں۔

ترسیلاتِ زر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی آئی ہیں‘ لہٰذا خلیج میں اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہونے سے پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ ششماہی رپورٹ کا ایک اہم پہلو مہنگائی اور شرح نمو کا تخمینہ ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کیلئے مہنگائی کی شرح طے شدہ ہدف کی بالائی حد (5تا 7 فیصد )سے بھی زیادہ رہنے کا خدشہ ہے‘ البتہ جی ڈی پی کی شرح نمو مقررہ تخمینے (3.75 تا 4.75) کی نچلی سطح کے قریب رہنے کی توقع ہے۔ پہلی ششماہی میں شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔ اگرچہ کٹھن معاشی حالات میں یہ رفتار اطمینان بخش نہ سہی امید افزا ضرور ہے مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس رفتار سے آگے بڑھتی معیشت بھی عوام کو ریلیف اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے کوئی نوید سناتی نظر نہیں آتی‘ کجا یہ کہ مستقبل کے حوالے سے خطرات کہیں شدید ہیں۔ پہلی ششماہی میں معاشی اشاریے نسبتاً مثبت رہے مگر خرابی کے دہانے بھی اب تک وہیں موجود ہیں۔
اقتصادیات کا ایک اصول ہے کہ جب نمو سست اور افراطِ زر بلند ہو تو معیشت جمود کا شکار ہو جاتی ہے جس سے ٹیکس وصولی اور صنعتی پیداوار براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ ٹیکس اہداف کو پورا کرنا پہلے ہی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ٹیکس ریونیو ہدف کے حصول کیلئے حکومت توانائی پر عائد بالواسطہ ٹیکسوں کی شرح بڑھا رہی ہے۔ دوسری جانب مالی سال کے پہلے نو ماہ میں بجٹ خسارہ 856ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ صوبوں کے سرپلس کی وجہ سے اسے کم کر کے 541 ارب تک لانے میں مدد ملی ہے مگر جولائی تا مارچ 14ہزار 799ارب روپے آمدن کے مقابل 15 ہزار 665 ارب روپے سے متجاوز اخراجات مستقبل کے چیلنجز کو زیادہ سخت اور مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں ملکی مصنوعات کی کمزور مسابقت اور برآمدات میں گراوٹ کا مسئلہ بھی گمبھیر ہوتا جا رہا ہے۔ توانائی کی بڑھتی قیمتوں‘ مہنگے خام مال اور جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کے باعث برآمدی صنعتیں علاقائی حریفوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔
ایسے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی نے غیر ملکی امداد اور بیرونی قرضوں پر انحصار مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ عارضی حل پائیدار معاشی استحکام کے تقاضوں کے منافی ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غیر ملکی قرضے‘ دوست ممالک کے ڈیپازٹس اور بیل آؤٹ پیکیجز معیشت کو دستاویزی شکل دینے‘ برآمدات کو بڑھانے اور نان ٹیکس شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے جیسے اقدامات کا متبادل نہیں بن سکتے۔ اگر اب بھی طویل مدتی اور ناگزیر فیصلوں سے چشم پوشی کی جاتی رہی تو ملکی معیشت عبوری استحکام اور خطرات کے بیچ جھولتی رہے گی اور عالمی منظر نامے پر کوئی بھی اتھل پتھل کسی بھی وقت ملکی اقتصادیات کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔