ماحولیاتی انصاف کی ضرورت
وفاقی وزیر ماحولیات مصدق ملک نے ورلڈ اربن فورم میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے جن ماحولیاتی مسائل کا تذکرہ کیا ہے‘ وہ فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پاکستانی معاشرہ ایسی سنگین سماجی اور جغرافیائی تبدیلی کی زد میں ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ ملک کی بیشتر آبادی اب شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہے لیکن تشویشناک امر یہ ہے کہ اس طبقے کا نصف سے زائد حصہ کچی آبادیوں اور غیر منظم بستیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ قدرتی آفات‘ شدید بارشوں اور سیلاب سے سب سے زیادہ یہی علاقے متاثر ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر کا یہ بیان ایک تلخ حقیقت کا عکاس ہے کہ موسمیاتی تبدیلی‘ رہائشی ناانصافی اور غربت کے مابین ایک ایسا گہرا اور تباہ کن تعلق قائم ہو چکا ہے جو براہ راست پسماندہ طبقات کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران سے اگرچہ پوری دنیا نبرد آزما ہے مگر سب سے مہلک وار کچی آبادیوں پر ہوتا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے اب روایتی پالیسیوں اور عارضی امدادی کاموں سے ہٹ کر بنیادی نوعیت کے اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔ آبادی کے تناسب کو متوازن بنانے کیلئے ان عوامل کا خاتمہ ضروری ہے جو شہروں کی طرف ہجرت کا سبب بنتے ہیں۔ تعلیم‘ صحت اور تعمیر و ترقی میں شہروں اور دیہات میں مساوات ماحولیاتی ناانصافی کے خاتمے کا ناگزیر تقاضا ہے۔