تعلیمی معیارپر سوالات
سی ایس ایس امتحان میں بڑے پیمانے پر ناکامی کے اسباب کی جو تفصیلات حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ہیں اس سے قومی تعلیمی معیار پر شبہات کو تقویت ملتی ہے۔ یہ محض ایک مسابقتی امتحان میں چند ہزار امیدواروں کی ناکامی کا معاملہ نہیں بلکہ اُس گہرے فکری اور تعلیمی بحران کا خاکہ ہے جس میں ہماری نسلیں کئی دہائیوں سے جکڑی ہوئی ہے۔ تشویشناک حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ نوجوانوں میں مطالعے کی شدید کمی اور فکری وسعت کا فقدان ہے۔ انٹرنیٹ سرچ اور سوشل میڈیا کے سطحی مواد نے گہرے‘ تنقیدی اور تحقیقی مطالعے کی عادت کو یکسر ختم کر دیا ہے۔ جب طلبہ مستند کتب‘ تحقیقی مقالہ جات اور سنجیدہ تجزیوں کے بجائے رٹے رٹائے نوٹس پر انحصار کریں گے تو ان کی سوچ کا دائرہ محدود ہونا طے ہے۔

امتحان کوئی بھی ہو‘ اس کا مقصد امیدوار کی یادداشت کا امتحان لینا نہیں‘ بلکہ اس کی تخلیقی صلاحیت‘ تجزیاتی شعور اور آزادانہ رائے کو جانچنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے مطالعے کی کمی کے باعث نسلِ نو کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ہوتا ہے اور نہ ہی نوجوان اپنے خیالات کو مربوط اور منطقی انداز میں پیش کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہ ناکامی اس فرسودہ تعلیمی نظام کا شاخسانہ ہے جو رٹا لگانے اور امتحانات میں نمبروں کی دوڑ سکھاتا ہے۔ جب تک ہم تعلیمی نصاب اور طریقہ تدریس میں انقلابی اصلاحات نہیں لائیں گے یہ صورتحال تبدیل نہیں ہو سکتی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ امتحانی نظام کو رٹے کے بجائے فکری صلاحیتوں کو جانچنے کے سانچے میں ڈھالا جائے۔