اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بھارتی تکبر، تعصب اور تنگ نظری

آئی ایس پی آرکی جانب سے بھارتی فوجی سربراہ کے ایک حالیہ انٹر ویو میں پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی پر شدیدردعمل دیا گیا اور کہا گیا کہ ایٹمی ہمسایہ ملک کو جغرافیہ سے مٹانے کی دھمکی ذہنی دیوالیہ پن‘ جنگی جنون اور اشتعال انگیزی کا مظہر ہے۔ بھارتی فوجی سربراہ کا پاکستان کے خلاف آگ اگلنا ذہنی دیوالیہ پن کی علامت اور تاریخی خام خیالی ہے۔ بھارتی فوجی سربراہ تاریخ میں دور نہ جاتے گزشتہ برس کے واقعات ہی کو یاد کر لیتے تو اس ہذیان گوئی سے اجتناب کرتے۔ پاکستان کے خلاف بھارتی خبث باطن کے اظہار کا یہ پہلا موقع نہیں‘ یہ سلسلہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ اُس وقت کی بھارتی قیادت بھی پاکستان کے خلاف تعصب کا اظہار اسی طرح کرتی تھی۔ سردار پٹیل اور دوسروں کے الفاظ تاریخ میں محفوظ ہو گئے ہیں جن کا وہم تھا کہ پاکستان کمزور ہو گا تو اپنا وجود قائم نہیں رکھ پائے گا۔ اس کے جواب میں بانیٔ پاکستان کے الفاظ بھی تاریخ کا حصہ ہیں جنہوں نے پورے یقین سے کہا تھا کہ دنیا میں ایسی کوئی طاقت نہیں جو پاکستان کو ختم کر سکے۔

وقت نے ثابت کیا کہ ہر آنے والے دن قائداعظم محمد علی جناح کے ان الفاظ کو قدرت نے تقویت بخشی اور پاکستان کا وجود مضبوط سے مضبوط تر ہوا۔ آج یہ ملک جوہری طاقت سے لیس اور جدید ترین ہتھیاروں اور صلاحیتوں سے مالا مال مسلح افواج کا حامل ہے‘ جس کے وجود کو مٹانے کی بات اُس فوج کا سربراہ کر رہا ہے جس نے ٹھیک ایک برس پہلے پاکستان کے ہاتھوں بدترین اور ہزیمت آمیز شکست کا سامنا کیا۔ بھارت کی ناکامیوں کا قصہ یہیں تک نہیں‘ سفارتی میدان اور علاقائی سیاست میں بھی اُس ملک کو پاکستان نے شہ مات دی ہے۔ جو پاکستان کو علاقائی اور عالمی سیاست سے الگ تھلگ اور سفارتی تنہائی کی صورت میں مات دینے کی تدابیر کرتا تھا وہ خود عالمی نظروں میں نکو بن کر اپنی حدوں تک محدود ہو چکا ہے۔ مسلح محاذوں سے الگ پاکستان کی یہ بھی ایسی شاندار فتح ہے جس سے دشمن ہزیمت خوردہ ہے۔ بھارتی افواج کے سربراہ کی یاوہ گوئی کو اس پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا تعصب اور تکبر اُس کا سب سے بڑا دشمن ہے جو اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈالتا اور حقائق کے ادراک میں حائل ہوتا ہے۔ تعصب اور تکبر نے بھارت کو داخلی سطح پر بھی ادھیڑ کر رکھ دیا ہے اور عالمی نظروں میں بھی بے آبرو کیا ہے۔

بھارت اگر حقیقت پسندی اور انصاف سے کام لے تو یہ اُس کے اپنے مفاد میں ہے۔ بصورت دیگر بھارت‘ جو چلا ہے دوسروں کے وجود پر زبان درازی کرنے‘ اُس کا اپنا وجود سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنوبی ایشیا اس وقت دنیا کے ان حساس ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں معمولی اشتعال بھی بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل‘ سیاسی بصیرت اور سنجیدگی ناگزیر ہوتی ہے۔ مگر بھارتی سیاسی اور فوجی قیادت کی جانب سے وقتاً فوقتاً ایسے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں جن میں جنگی جنون اورتعصب جھلکتا ہے۔ پاکستان کو جغرافیے سے مٹانے یا اس کے وجود کو چیلنج کرنے جیسے بیانات اسی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا اصل اظہار دھمکیوں میں نہیں برداشت‘ سفارتکاری اور امن پسندی میں ہوتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن‘ مذاکرات اور باہمی احترام کی بات کی۔ پاکستان کی پالیسی واضح ہے کہ خطے کے تمام مسائل بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل ہونے چاہئیں۔

تاہم امن کی اس خواہش کو کمزوری سمجھنا سنگین غلطی ہو گی۔ جنوبی ایشیا کو نفرت‘ دھونس اور جنگی جنون سے نکال کر امن‘ ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کی ضرورت میں دو رائے نہیں۔ تاہم بھارت کو ایک ذمہ دار ریاست کا رویہ اختیار کرنے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پُرامن بقائے باہمی ہی وہ راستہ ہے جو اقوام کو بہتر مستقبل دے سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں