گندم کی کم پیداوار اور زرعی پالیسی
ملک عزیز میں زراعت کا شعبہ حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل کی وجہ سے بحران کا شکار ہے۔ گندم کی خریداری اور امدادی قیمت کے حوالے سے حکومتی پالیسی تبدیل ہونے کا نتیجہ رواں سال گندم کی پیداوار میں کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب کے تخمینوں سے علم ہوتا ہے کہ پنجاب میں گندم کی پیداوار میں تین سے دس فیصد تک کمی آئی ہے۔ اندازہ ہے کہ رواں سال گندم کی پیداوار قومی ضروریات سے 20 فیصد تک کم ہو سکتی۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے علاوہ کم پیداوار کی ایک بڑی وجہ حکومتی پالیسیوں کی بے یقینی ہے۔

گزشتہ برس ایک من گندم کے عوض کسان کو محض 2200 روپے ملے‘ رواں سال حکومت نے 3500 روپے فی من نرخ مقرر کیے مگر نامزد نجی فرموں کی عدم دلچسپی‘ تاخیر اور دیگر ٹال مٹول کی وجہ سے بیشتر کسانوں کو رواں برس بھی اپنا جائز محنتانہ نہیں مل سکا۔ اس صورتحال سے مایوس کسان آنے والے سال گندم کے بجائے دیگر نفع آور فصلوں کا رخ کر سکتے ہیں جس سے ملک میں غذائی تحفظ کا سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا ۔ ہر سال گندم‘ چینی اور دیگر اہم اجناس کا بحران بدانتظامی اور سرکاری پالیسیوں کے عدم تسلسل کا شاخسانہ ہے۔ حکومت کوزراعت میں طویل مدتی‘ پائیدار اور مستقل پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں۔ کسانوں کو معاشی تحفظ دینے کے علاوہ یہ غذائی خود کفالت کا بھی ناگزیر تقاضا ہے۔