آسان قرض نہیں پیداواری معیشت
ایسے وقت میں جب ملکی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے‘ رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران عالمی اداروں‘ بین الاقوامی بینکوں اور دوست ممالک سے 11 ارب ڈالر کا قرض مالیاتی بوجھ میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔قرضوں کا یہ حجم گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 83 فیصد زیادہ ہے۔ قرضوں کا بوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ پرانے قرضوں کی ادائیگی نئے قرضوں سے مشروط ہو چکی ہے۔ یہ ایسی دلدل ہے‘ جس میں ہماری معیشت بُری طرح پھنس چکی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس حوالے سے سنجیدہ روش اختیار کی جائے اور وقتی بیل آؤٹ پیکیجز پر انحصار کی پالیسی ترک کر کے معیشت کی پیداواری استعداد میں اضافہ کیا جائے۔

جب تک زرعی و صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ اور مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ نہیں دیا جائے گا‘ معاشی پائیداری کا خواب ادھورا رہے گا۔ قرض گیری کے بجائے ٹیکس ریونیو بڑھانے اور برآمدات اضافے کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب خطے میں سب سے کم ہے‘ ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر حکومتی آمدن کو بہتر بنانا اب ناگزیر ہو چلا ہے۔ برآمدات میں آئی ٹی‘ ہائی ٹیک مصنوعات اور ویلیو ایڈڈ اشیا پر توجہ دی جانی چاہیے تاکہ تجارتی خسارہ کم ہو اور ڈالروں کیلئے بیرونی قرضوں کی ضرورت نہ پڑے۔ اب بھی وقت ہے کہ مصلحت پسندی چھوڑ کر سٹرکچرل اصلاحات کی طرف بڑھا جائے وگرنہ قرضوں پر انحصار کی پالیسی زیادہ سنگین مالیاتی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔