بزدلانہ حملہ!
کوئٹہ میں چمن پھاٹک پر دہشت گردی کا گھناؤنا واقعہ انتہائی قابلِ مذمت اور اس واقعے کے ذمہ دار‘ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کا تقاضا کرتا ہے۔ بزدل دہشت گردوں نے ایک شٹل ٹرین کو نشانہ بنا کر ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ مسافراور نہتے شہری ان کا ہدف ہیں۔ اس سے پہلے بھی مسافر گاڑیاں‘ مزدور اور راہگیر دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک بلوچستان کی شاہراہوں پر دہشت گردی کے واقعات معمول بن چکے تھے مگر اب ایسے واقعات میں واضح کمی نظر آتی ہے جو شاہراہوں پر سکیورٹی انتظامات اور دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم دہشت گردی کے اس تازہ واقعے نے مسافروں اور نہتے عوام کی سکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات سے دوچار کیا ہے۔ اس المناک واقعے کے بعد ضروری ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی کے خدشات سے نمٹنے کیلئے مزید مؤثر اقدامات کئے جائیں۔ بلوچستان میں سکیورٹی خطرات کے محرکات داخلی سے زیادہ خارجی ہیں۔ بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی ایک کھلا راز ہے اور یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے تانے بانے افغانستان سے ہوتے ہوئے دہلی سے ملتے ہیں۔

پاکستان کے باصلاحیت سکیورٹی ادارے خطرات کی اس نوعیت کا ادراک کرتے ہوئے انہیں کچلنے کیلئے کمر بستہ ہیں ۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ پولیس میں انسدادِ دہشت گردی کے شعبے کو ترقی دینا وقت کا تقاضا ہے تاکہ شہریوں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ شہری علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی کا یکساں بڑا مسئلہ ہیں۔ اس مسئلے کے پائیدار حل کیلئے جامع اور ہمہ جہت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس میں شہروں کی الیکٹرانک نگرانی‘ شاہراہوں کی مؤثر پٹرولنگ اور شہروں کے داخلی وخارجی راستوں کی مؤثر مانیٹرنگ ضروری ہے۔ ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ جن علاقوں میں سکیورٹی کے ان تقاضوں کو پورا کیا گیا وہاں سکیورٹی کے حوالے سے ناخوشگوار واقعات کی تعداد اور شدت میں نمایاں کمی ہوئی؛ چنانچہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومت کو اس جانب زیادہ سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
بلوچستان میں صوبائی دارالحکومت ایک عرصے سے دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اسی طرح خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع مسلسل دہشت گردی کا ہدف بنے ہوئے ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کیلئے صوبائی دائرہ کار میں مؤثر سکیورٹی بندوبست کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے تازہ واقعے کی ٹائمنگ بھی قابلِ غور ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ ایران مذاکرات میں پیشرفت پر دنیا میں مسرت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس عمل میں پاکستان کی پُرعزم سفارتکاری اور ثالثی کو سراہا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں نے اس گھناؤنے واقعے سے پاکستان کے اس تشخص کو گہنانے کی کوشش کی۔ملک میں دہشت گردی کا ہر واقعہ پاکستان کے اس مقدمے کو تقویت دیتا ہے کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی صورت میں پاکستان کو بیرونی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان پہلے بھی اپنا مؤقف عالمی فورمز پر پیش کر چکا ہے‘ ضروری ہے کہ یہ مقدمہ اب مزید پُرزور انداز سے پیش کیا جائے۔
عالمی سطح پر پاکستان کا ابھرتا ہوا تشخص یقینی بنائے گا کہ دہشت گردی کے بیرونی خطرات سے دنیا کو بہتر آگاہی فراہم کی جا سکے اور ان گھناؤنے عزائم کے محرکین کا سدباب کرنے کیلئے عالمی اثر ورسوخ استعمال کیا جائے۔ مگر ساتھ ہی ہمیں اپنے سکیورٹی انتظامات کو زیادہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ دہشت گردوں کیلئے ایسا کوئی خلا باقی نہ رہے جہاں سے وہ پاکستان کو نقصان پہنچا سکیں۔